مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 414 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 414

414 گزری ہو۔پوپ کا انتخاب خاصہ مشکل اور دقت طلب کام ہوتا ہے۔بارھویں صدی عیسوی سے College of Cardinal کے ذریعہ سے انتخاب کا طریق رائج ہوا۔شروع شروع میں تو انتخاب کے موقعہ پر بہت اختلاف پیدا ہو جایا کرتے تھے جس کی وجہ سے تیرھویں اور چودھویں صدی میں ایک پوپ کی وفات پر دوسرے انتخاب تک لمبے لمبے وقفے پڑ جایا کرتے تھے۔تنگ آکر ایک طریق یہ نکالا گیا کہ کالج کے ممبران کو ایک کمرہ میں بند کر دیتے تھے جس کو Conclave کہا جاتا ہے۔اس کمرہ کو باہر سے تالا لگا دیتے تھے اور اسی وقت کھولتے تھے جب ان کی اکثریت کسی ایک نام پر متفق ہو جاتی تھی۔ممبران کے علاوہ کسی کو اس کمرہ میں جانے کی اجازت نہ ہوتی تھی۔چونکہ ان کو روٹی پانی کسی طریق سے اندر پہنچا دیا جاتا تھا اس لئے پھر بھی کئی دن لگ جایا کرتے تھے۔آخر انہوں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ وہ روزے رکھیں گے اور ان کو کھانا بھی نہیں دیا جائے گا۔بھوک سے تنگ آکر وہ جلد انتخاب کرلیا کرتے تھے۔یہ طریق ابھی بھی رائج ہے اگر چہ روٹی پانی اب مہیا کر دی جاتی ہے۔اگر تین دن تک صبح و شام دودو دفعہ بیلٹ کرنے کے بعد بھی فیصلہ نہ ہو سکے تو چوتھے روز دعا اور مشورہ کے لئے ناغہ کیا جاتا ہے۔سولہویں صدی عیسوی سے یہ Conclave روم کے Sistine chapel میں منعقد ہوتا ہے۔موجودہ قانون کے مطابق انتخابی ادارہ کے ارکان پوپ کی وفات کے پندرہ بیس دن بعد Conclave میں چلے جاتے ہیں۔پوپ کو اختیار ہوتا ہے کہ اپنے پیچھے آنے والے کے لئے انتخابی قانون میں تبدیلی کر سکے۔آج کل پوپ کیلئے دو تہائی ووٹ درکار ہوتے ہیں۔لیکن اگر کئی دن بعد بھی اتنی تعداد کسی نام پر متفق نہ ہو سکے تو یہ ادارہ بھی معمولی اکثریت سے منتخب کر سکتا ہے۔کارڈینلز کونوٹس وغیرہ لینے کے لئے بہت تھوڑا کاغذ دیا جاتا ہے اور ہر ایک یاد و بیلٹ پیپر اور وہ نوٹس جلا کر ضائع کر دئے جاتے ہیں تا اس کا رروائی کو خفیہ رکھا جاسکے۔کمرہ انتخاب کے اندر ایک انگیٹھی ہوتی ہے۔ہر دفعہ جب ووٹ ڈالے جاتے ہیں تو بعض خاص کیمیکلز ڈال کر دھواں باہر نکالا جاتا ہے تو بالکل سفید ہوتا ہے یا بالکل سیاہ۔سیاہ دھوئیں کا مطلب ہوتا ہے کہ اس بار بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔اور سفید دھوئیں کا مطلب ہوتا ہے کہ پوپ کے انتخاب پر اتفاق ہو گیا ہے۔ہزاروں لوگ صبح و شام اس انگیٹھی سے نکلنے والے دھوئیں کا رنگ بے چینی سے دیکھ