مکتوب آسٹریلیا — Page 370
370 کسی بھی عدد سے تقسیم کریں تو جواب Infinity ہی آتا ہے جس کا مطلب بنتا ہے کہ ہر واقعہ سے پہلے لا محدود زمانہ گزر چکا ہوگا جو کہ لایعنی بات ہے۔لیکن اگر اس کے بالمقابل کائنات کا آغاز ایک خاص وقت پر مانا جائے تو اس سے پہلے وقت کو لا محدود ماننا پڑتا ہے اور یہ بات بھی درست نہیں کیونکہ ایسی صورت میں کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ کائنات ایک خاص وقت پر ہی کیوں شروع ہوئی اور اس سے پہلے کیوں نہ ہوئی یہاں خاکسار عرض کرنا چاہتا ہے کہ آج کے اکثر دہر یہ حضرات یہ کہتے ہیں کہ یہ کائنات اور اس میں کارفرما قو تیں ہمیشہ سے ایسے ہی ہیں اور ایسے ہی رہیں گے گویا یہ خود ہیں اور ان کا خالق کوئی نہیں۔کائنات کا آغاز کسی خاص وقت پر تسلیم کرنے سے انکا موقف غلط ثابت ہوتا ہے اس لئے کہ کوئی چیز خود اپنے آپ کو ( مع ضروری صفات اور طاقتوں کے ) پیدا نہیں کر سکتی اس لئے اگر کسی بھی وقت کا ئنات عدم سے وجود میں آئی تھی تو اس کا ایک غیر محد ودقد رتوں والا خالق ہونا چاہئے۔(۵) ایڈون ہبل (Edwin Hubble) نے کہا کہ کائنات ہر طرف پھیل رہی ہے اور دور کی کہکشائیں ہم سے اور بھی دور ہوتی جارہی ہیں اور کائنات جس رفتار سے پھیل رہی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دس میں ارب سال پہلے یہ ایک نقطہ پر مرکوز ہوگی اور اس کی کثافت (Density) لامحدود ( Infinity) ہوگی جس کی وجہ سے سائنس کے قوانین ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں اور مستقبل کے متعلق کوئی اندازے نہیں لگائے جا سکتے۔اگر ” بگ بینگ (Big Bang) سے پہلے کوئی واقعات ہوئے بھی ہوں گے تو بھی چونکہ ہمارا ان سے کوئی تعلق واسطہ نہیں اس لئے انہیں نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مہبل کی تھیوری کے مطابق کائنات کی تخلیق کا ایک نقطہ آغاز تھا جو کوئی پندرہ ارب سال پہلے تھا جس چیز کا آغاز ہے اس کا انجام بھی ہے اور چونکہ کائنات اپنی حدود اور صفات خود متعین نہیں کر سکتی اس لئے عقلاً حدود مقرر کرنے والا ایک قدیر خدا بھی ہونا چاہئے۔(1) نیوٹن (Newton) بھی ارسطو کی طرح وقت کے مطلق ہونے پر یقین رکھتا تھا جس کا مطلب یہ بنتا تھا کہ کوئی سے دو گزرے ہوئے واقعات کے درمیان وقت کی پیمائش درست طور پر کی جاسکتی ہے لہذا یہ وقت اور خلاء (Time and Space) ایک دوسرے سے علیحدہ اور آزاد ہیں