مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 361 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 361

361 ایسے ہی ایٹم کے مرکز (Nucleus) کے اردگرد مختلف دائروں میں الیکٹر ان گھومتے ہیں۔ہمارا نظام سمسی ایک خاندان کی طرح ہے جو اپنی کہکشاؤں کے اندر چکر بھی لگاتا ہے اور ساتھ آگے بھی کسی سمت بڑھ رہا ہے۔ہمارے نظام شمسی کی طرح کے ایک سوارب نظام اس کہکشاں کا حصہ ہیں۔ہر نظام میں کچھ ستارے (Stars) ہوتے ہیں جو ذاتی طور پر روشن ہوتے ہیں اور ان سے حرارت اور روشنی خارج ہوتی ہے یعنی سورج۔پھر ہر ستارے کے گردگھومنے والے سیارے(Planets) ہوتے ہیں جیسے ہماری زمین اور پھر ہر سیارے کے گرد گھومنے والے اپنے اپنے ” تابع سیارے (Satelites ہوتے ہیں جیسے ہمارا چاند۔جس کہکشاں (Milkeyway(Galaxy کا حصہ ہمارا نظام شمسی ہے اور اس میں اس طرح کے سوا رب اور نظام بھی ہیں ) اس کہکشاں جیسی کوئی سوارب مزید کہکشائیں ہماری کائنات میں چکر لگاتی لگاتی اپنے مستقر کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ہماری کائنات کوئی ۱۳۰۷ بلین ارب ) سال پہلے بگ بینگ (دھما کہ ) کے ساتھ ایک ایسے نقطہ سے پھوٹی تھی جس کی کثافت (Density) کہتے ہیں لامحدود (Infinity) تھی لیکن حجم (طول ، عرض ، گہرائی) صفر تھا۔سائنسدان نیست (Nothingness) یا عدم وجود کو اسی طرح بیان کر سکتے ہیں کہ جس نقطہ سے کائنات پھوٹی تھی (Singularity) نہ اس کی لمبائی تھی نہ چوڑائی نہ موٹائی اور نہ ہی اس پر فزکس کے قوانین لاگو ہوتے تھے۔سیدھی بات یہ ہے کہ اس کو ہم نیست سے ہست کرنا یا عدم وجود سے تیز وجود میں لانا کہتے ہیں اور یہ کام اسی خالق ، قادر اور علیم ہستی کا ہو سکتا ہے جو خود مکاں اور زماں Space and) (Time اور مخلوق کی دوسری کمزوریوں سے پاک ہو اور اس کی صفات اور طاقتیں لامحدود ہوں۔کائنات چونکہ اتنی وسیع ہے کہ عام میلوں کے پیمانہ سے اسے اپنا ممکن نہیں اس لئے فاصلے ظاہر کرنے کے لئے نوری سال (Light year Distance) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے یعنی یہ وہ فاصلہ ہے جو روشنی یا بجلی ۳ لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہوئی ایک سال میں طے کرتی ہے۔ایک نوری سال ۲۸۔۹۴۶۷ بلین (ارب ) کلومیٹر کا ہوتا ہے۔سورج زمین سے ۱۵۰ ملین (۱۵ کروڑ ) کلومیٹر دور ہے اور روشنی وہاں سے زمین تک پہنچنے میں 9 منٹ لیتی ہے۔ہمارے نظام شمسی کا سب سے دور سیارہ پلوٹو ہے جو سورج سے ۹۰۰ ۵ ملین کلومیٹر دور ہے اور روشنی وہاں تک