مکتوب آسٹریلیا — Page 352
352 قرآن مجید کے مطابق اگر چہ عورت کو خاوند کی مرضی سے کام کرنے کی اجازت ہے لیکن اس کا عمومی دائرہ کار اس کا گھر ہی ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین کو ارشاد فرمایا: اپنے گھروں میں ہی رہا کرو اور گزری ہوئی جاہلیت کے سنگھار جیسے سنگھار کی نمائش نہ کیا کرو“ (الاحزاب :۳۳) اس حصہ آیت پر حضرت مصلح موعودؓ کے تفسیری نوٹس کے مطابق انگریزی ترجمہ قرآن میں مندرجہ ذیل تشریح کی گئی ہے ( انگریزی سے ترجمہ :۔ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کا دائرہ کار زیادہ تر اس کا گھر ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ گھر کی چاردیواری کو چھوڑ نہیں سکتی۔وہ جتنی بار بھی اپنے جائز کام کاج کے لئے ادھر ادھر جانا چاہے جاسکتی ہے۔لیکن مخلوط سوسائٹی میں گھومنا پھرنا یا ہر طرح کے چھوٹے موٹے کاموں یا پیشوں (Profession) وغیرہ کے لئے مرد کے شانہ بشانہ کام کرنا اور یوں بطور گھر کی مالکن کے جو مخصوص گھریلو کام اس کے ذمہ ہیں ان سے غفلت برت کر یا ان کو نقصان پہنچا کر ایسا کرنا اسلام جس مثالی عورت کا تصور پیش کرتا ہے اس کے مطابق نہیں۔آنحضرت ﷺ کی ازواج کو بالخصوص گھروں کے اندر رہنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ بوجہ امہات المومنین ہونے کے ان کی اعلیٰ حیثیت کا وقار اس کا متقاضی تھا۔نیز اس لئے بھی کہ مسلمان اکثر ان کے پاس احتراماً حاضر ہوتے تھے اور کئی اہم دینی معاملات میں ان سے رہنمائی حاصل کرتے تھے۔لیکن یہ حکم سبھی دیگر مسلمانوں عورتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔قرآن کریم کا یہ طرز کلام ہے کہ اگر چہ بظاہر وہ خصوصی طور پر آنحضرت ﷺ سے مخاطب ہوتا ہے لیکن وہ خطاب اسی طرح سب مسلمانوں کے لئے بھی ہوتا ہے۔اسی طرح یہ حکم اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کو مخاطب ہو کر دیا گیا ہے پر سبھی