مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 353 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 353

353 مسلمان عورتیں اس میں شامل ہیں۔“ پس اسلام جس کلچر کوفروغ دینا چاہتا ہے اس میں پیشوں کو اختیار کرنا یا ان کی تعلیم حاصل کرنا مردوں کے دائرہ کار میں آتا ہے۔عورتیں ضرور تعلیم حاصل کریں لیکن وہ تعلیم ایسی ہو جو ان کے دائرہ کار اور بچوں کی تعلیم و تربیت یا جماعتی و قومی ضرورت کے مناسب حال ہو۔مردوں والے پیشے اختیار کرنا اور مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا ایک صالحہ مسلمان عورت کی شان کے خلاف ہے۔خدا کا قانون سب کے لئے یکساں ہے۔غیر طبعی مساوات کے جو نتائج مغربی قو میں بھگت رہی ہیں ان کی اندھی تقلید کرنے والے بھی ان ہولناک نتائج سے بچ نہیں سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَعَلَى الْمَوْلُوْدِلَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ (البقره:۴۳۲ ) یعنی یہ بات سب مردوں کے ذمہ ہے کہ جو عورتوں کو کھانے کے لئے ضرورتیں ہوں یا پہننے کے لئے ضرورتیں ہوں وہ سب ان کے لئے مہیا کریں۔اس سے ظاہر ہے کہ مرد عورت کا مربی اور محسن اور ذمہ دار آسائش کا ٹھہرایا گیا ہے۔اور وہ عورت کے لئے بطور آقا اور خداوندِ نعمت کے ہے۔اسی طرح مرد کو بہ نسبت عورت کے فطرتی قومی زبر دست دیئے گئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے مرد عورت پر حکومت کرتا چلا آیا ہے۔“ پھر فرماتے ہیں: چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۸۸) خدا تعالیٰ فرماتا ہے الرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَى النِّسَاءِ اور اسی لئے مردوں کو عورتوں کی نسبت قومی زیادہ دیئے گئے ہیں۔اس وقت جو نئی روشنی کے لوگ مساوات پر زور دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ مرد اور عورت کے حقوق مساوی ہیں ان کی عقلوں پر تعجب آتا ہے۔وہ ذرا مردوں کی جگہ عورتوں کی فوجیں بنا کر جنگوں میں بھیج کر دیکھیں تو سہی کہ کیا نتیجہ مساوی