مکتوب آسٹریلیا — Page 338
338 مبارک کے جنوبی کو نہ میں جتنے دوست بھی وہاں اکٹھے ہو سکے ان کی موجودگی میں نکاح کا اعلان فرما دیا اور اس طرح میرے عزیز کی دلجوئی فرمائی۔جس روز میرے نانا جان حضرت میاں مہر اللہ صاحب کی وفات ہوئی حضرت مولوی صاحب کو علم ہوا تو نماز جنازہ اور تدفین میں شریک ہوئے اور آخر وقت تک ہمارے ساتھ رہے۔اس دوران میں نے انہیں بتایا کہ کل میرے نانا نے کشف میں دیکھا تھا کہ آسمان پر بہت سے لوگ اکٹھے ہوئے ہوئے ہیں دو حصوں میں بٹے ہوئے ہیں اور کچھ جنت کی طرف اڑتے جارہے ہیں اور کچھ جہنم کی طرف۔اور پوچھنے پر بتایا کہ میں ان لوگوں میں شامل تھا جو جنت کی طرف بھاگے جارہے تھے۔(جیسے پتنگے روشنی کی طرف بھاگتے ہیں ) جب ان کا یہ کشف جو وفات سے ایک روز قبل انہوں نے دیکھا تھا میں نے حضرت مولوی صاحب کو بتایا تو فرمانے لگے کہ حدیث میں بھی آتا ہے کہ الا رواح جنود مجندة یعنی روحیں جمع کئے ہوئے لشکروں کی طرح ہیں۔جب خاکسارا یگزیکٹو انجینئر تھا تو بہت سے غریب نوجوان ملازمت کے حصول کے لئے میرے پاس حضرت مولوی صاحب کے تعارفی رقعوں کے ساتھ آیا کرتے تھے کہ ملازمت کے سلسلہ میں ان کی مناسب امداد کی جائے۔اس سلسلہ میں ربوہ سے زیادہ خطوط مجھے غالبا حضرت مولوی صاحب کے ہی آیا کرتے تھے۔مجھ سے جو ہو سکتا تھا کرتا تھا۔اس زمانہ میں افسروں کو اختیار بھی بہت ہوتے تھے لیکن میں سوچتا تھا کہ مولوی صاحب غریب اور بے کار نوجوانوں کے لئے کس قدر ہمدردی رکھتے تھے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مولوی صاحب کے قائم مقام جماعت میں ہمیشہ پیدا کرتا چلا جائے اور ہماری جماعت میں ایسے علم وفضل کے اہل اللہ ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں۔آمین (الفضل انٹر نیشنل 16۔7۔2004)