مکتوب آسٹریلیا — Page 328
328 خواہشات پوری کر دی ہیں اور میری ساری مرادیں مجھے عطا کر دی ہیں۔اس کے ہر چھوٹے بڑے انعام پر دل اس کے شکر سے بھر جاتا ہے اور زبان اس کی حمد کے ترانے گاتی ہے۔ایک طرف میری خواہشات اور ضروریات نہایت محدود و مختصر اور اس کی رضا کے تابع ہیں تو دوسری طرف اس کے ذکر و شکر اور تعلق کی بے انتہاء لذت نے دنیا کی ساری تلخیاں اور محرومیاں اپنے دامن میں سمیٹ لی ہیں اور ان کے وجود کا احساس مٹا دیا ہے۔جاؤ اپنے بادشاہ کو بتاؤ کہ اطمینان قلب صرف دنیوی لذتوں، راحتوں اور نعمتوں میں نہیں بلکہ خدا کے ذکر و شکر اور تعلق میں ملتا ہے جس چیز کی اس کو ظاہر میں تلاش ہے وہ تو اس کے باطن میں پنہاں ہے۔مذکورہ بالا حکایت میں ایک گراں قدر صداقت بیان کی گئی ہے اور خدا تعالیٰ کا پاک کلام اس کا سر چشمہ ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ یعنی سنو دلوں کو اطمینان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے حاصل ہوتا ہے۔جوں جوں زمانہ مادی ترقی کرتا جارہا ہے زندگی کی گہما گہمی آسائشوں اور ضروریات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ذہنی سکون دلوں سے رخصت ہوتا جا رہا ہے۔انسان کی ہر آن بڑھتی ہوئی خواہشات کا گویا ایک سیلاب ہے جو امنڈتا چلا آرہا ہے حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر و شکر ، صبر و توکل اور قناعت کی مضبوط دیوار میں ہی ہیں جو اس طوفان کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔اور جب یہ بندٹوٹ جائے تو خواہشات کا سیلاب اپنے ساتھ اطمینان قلب کو بھی بہا کر لے جاتا ہے۔اور کیفیت یہ ہو جاتی ہے کہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے بہت نکلے میرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے (غالب) خواہشات کا دامن پھیلتا جاتا ہے اور انسان اپنی ہی خواہشات کے آگے گھٹنے ٹیک دیتا ہے، ہوا و ہوس کا بندہ بن جاتا ہے، گویا ایک بہت ہے جس کو سینے میں چھپائے پھرتا ہے جیسا کہ خدا تعالی فرماتا ہے اَفَرَأَيْتَ الَّذِى مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَواهُ کہ کیا تو نے اس شخص کی حالت پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنالیا ہے۔دنیا اور اس کی فانی اشیاء سے انسان کی محبت اس درجہ پر پہنچ جاتی ہے کہ اگر وہ اس سے چھن