مکتوب آسٹریلیا — Page 327
327 کچی خوشحالی اور اطمینان قلب کا راز کہتے ہیں کہ کسی ملک کا بادشاہ ہر وقت کسی نہ کسی فکر و غم اور پریشانی کا شکار رہا کرتا تھا۔اس نے اس بارے میں اپنے دانا مشیروں اور لائق حکیموں سے مشورہ طلب کیا۔ان کے مشوروں پر بادشاہ کے لئے ہر قسم کے دنیاوی لہو ولعب اور عیش و عشرت کے سامان مہیا کئے گئے مگر ولی اطمینان نصیب نہ ہوا۔ایک درویش تک یہ سارا ماجرا پہنچا تو اس نے کہا بادشاہ سے کہو کہ اپنی سلطنت میں کوئی ایسا شخص ڈھونڈے جسے کوئی غم اور فکر لاحق نہ ہو۔اس کا قمیص حاصل کیا جائے اور بادشاہ کو پہنایا جائے اس کی برکت سے بادشاہ کے فکر و غم دور ہو جا ئینگے۔چنانچہ بادشاہ کے حکم سے ساری سلطنت میں ہر طرف آدمی دوڑائے گئے کہ ایسے آدمی کو تلاش کیا جائے لیکن جس سے بھی پوچھا جاتا وہ اپنے کسی نہ کسی غم یا پریشانی کا ذکر کر دیتا۔بالآخر بادشاہ کے وزیر کو ایک پہاڑ کے دامن میں ایک شخص بکریاں چراتا ہوا ملا جو خدا کی محبت کے گیت گا رہا تھا۔اس سے جب پوچھا گیا کہ کیا تمہیں بھی کوئی پریشانی لاحق ہے تو اس نے جواب دیا کہ الحمد للہ کوئی نہیں ، وزیر نے درویش سے کہا کہ ہمیں تمہارا قمیص درکار ہے۔ہم نے اسے بطور علاج بادشاہ کو پہنانا ہے تا اس کے بھی ہموم و عموم دور ہوں۔اس مرد دوریش نے تعجب سے کہا کہ قمیص ؟ وہ تو میرے پاس ہے ہی نہیں۔میرے پاس تو یہی لنگوٹی ہے جو پہنے ہوئے ہوں۔وزیر نے حیرت سے پوچھا۔اے درویش اگر تمہارا د امن دنیا کی نعمتوں سے اتنا ہی تہی ہے کہ تمہارے پاس قمیص بھی نہیں تو پھر تم خوش کیسے رہتے ہو؟ اس نے جواب دیا خدا نے میری ساری کی ساری