مکتوب آسٹریلیا — Page 291
291 سماء دنیا کو ستاروں سے مزین کیا ہے اور انہیں شیطانوں کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے (۳) سورہ الصفت رکوع ۱ ( یعنی ۱۱۷:۳۷) میں ہے إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيا بِزِيْنَةِ ن الكَوَاكِبٍ وَحِفْظاً مَّنْ كُلِّ شَيْطَانِ مَا رِدٍ لَا يَسْمَعُوْنَ إِلَى الْمَلَاءِ الْأَعْلَى وَيُقْدَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ دُحُورًا وَّلَهُمْ عَذَابٌ واصِبٌ إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةُ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ۔ہم نے ور لے آسمان کو ستاروں سے مزین کیا اور ہر باغی شیطان سے اسے محفوظ بنایادہ ملاء اعلیٰ کی بات نہیں سن سکتے اور ہر طرف سے انہیں بھگانے کے لئے ان پر پتھراؤ ہوتا ہے اور اس کے علاوہ بھی انہیں قائم رہنے والا عذاب ملے گا ( وہ سن تو نہیں سکتے ) لیکن اگر کوئی بات اچک لے جائے تو اس کے پیچھے چمکتا ہوا شہاب جاتا ہے (اور اسے تباہ کر دیتا ہے ) (۴) سورہ جن میں ہے و أَنَّا لَمَسْنَا = السَّمَاءَ فَوَجَدْنَاهَا مُلِئَتْ حَرَساً شَدِيدًا وَشُهُباً وَ أَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْها مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَنْ يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدْلَهُ شِهَـابـا رَّصَدًا ركوع (یعنی ۷۲ : ۱۰۹) اور ہم نے آسمان کے بارہ میں جستجو کی ہے اور یہ معلوم کیا ہے کہ اس میں سخت پہرہ لگا ہوا ہے مہب بھی مقرر ہیں اور اس سے پہلے تو ہم آسمان میں سننے کی جگہوں پر بیٹھا کرتے تھے مگر اب جو سنے لگتا ہے وہ اپنے پر ایک شہاب کو نگران پاتا ہے۔(۵) حم السجدہ میں ہے وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظاً ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ - رکوع ۲ ( یعنی ۱۳:۴۱)۔اور ہم نے ورلے آسمان کو چراغوں سے مزین کیا ہے اور ان کو ذریعہ حفاظت بھی بنایا ہے۔یہ غالب اور علم والے خدا کی تقدیر ہے ( تفسیر کبیر جلد چہارم صفحه ۳۷ - ۳۸) پرانے مفسرین کے نزدیک رجم الشیاطین کی حقیقت حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: