مکتوب آسٹریلیا — Page 283
283 جس پیشگوئی کا اس آیہ کریمہ میں ذکر ہے وہ ان الفاظ میں آتی ہے: صالح (The Rightious) اس زمین (ارض مقدس ) کے وو وارث ہوں گے اور اس میں ہمیشہ بسے رہیں گئے (37:29 Psalms) لیکن اس زمین پر جو لوگ فساد برپا کریں گے وہ سزا پائیں گے۔چنانچہ یہ بات اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو واضح طور پر بتادی تھی کہ تم زمین میں دوبارہ عظیم فساد برپا کرو گے اور اس کی پاداش میں تم تباہ برباد ہو گے۔اسکا ذکر سورہ بنی اسرائیل کے پہلے رکوع میں آیا ہے۔جہاں فرمایا: اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل کو اس قضا سے کھول کر آگاہ کر دیا تھا کہ تم ضرور زمین میں دو مرتبہ فساد کرو گے اور یقیناً ایک بڑی سرکشی کرتے ہوئے چھا جاؤ گے ( بنی اسرائیل: ۵ ) ان دو عذابوں کا ذکر قرآن مجید کی ایک اور آیت میں بھی ہے۔جہاں فرمایا: جن لوگوں نے بنی اسرائیل میں سے کفر کیا وہ داؤد کی زبان سے لعنت ڈالے گئے اور عیسے ابن مریم کی زبان سے بھی۔یہ ان کے نافرمان ہو جانے کے سبب سے اور اس سبب سے ہوا کہ وہ حد سے تجاوز کیا کرتے تھے“ (المائدہ: ۷۹) اس پیشگوئی کے مطابق داؤد کے ۴۰۰ سال بعد بابل کے بادشاہ Nebuchad nezzar ( بخت نصر ) نے ۸۸۵ تا ۲۸۵ قبل مسیح کے درمیان یروشلم کو تباہ کیا اور دوسری بار ۶ ۸ عیسوی میں ٹائٹس (Titus) رومی نے یروشلم کو تباہ کیا۔پہلی تباہی کے تقریباً سو سال بعد حضرت عزیر علیہ السلام واپس بیت المقدس آئے۔یہ واقعہ بائبل میں 2Kings, Ch25 میں بیان کیا گیا ہے جس کے مطابق نیبو کد نضر نے یروشلم پر چڑھائی کی اور ۸۸۵ قبل مسیح میں فلسطین کے دارالخلافہ یروشلم کا محاصرہ کر لیا۔شہر کے اندر جب غلہ کم ہو گیا تو ۶۸۵ ق م میں شہر کی دیوار توڑ دی گئی۔اس وقت یروشلم کا بادشاہ صدقیاہ تھا وہ بھاگ اٹھا مگر پکڑا گیا اس کی آنکھیں نکالی گئیں اور آنکھیں نکالنے سے پہلے اس کے بیٹوں کو اس کے سامنے ہلاک کر دیا گیا