مکتوب آسٹریلیا — Page 282
282 ( بیت المقدس) میں آباد ہو گئے۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے ماتحت آپ نے اپنے بیٹے اسماعیل کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کو اس کی پہلے سے موجود بنیادوں پر دوبارہ کھڑا کیا اور اس واقعہ کے چالیس سال بعد آپ نے اپنے دوسرے بیٹے حق کے لئے بیت المقدس میں خانہ کعبہ کی ظلیت میں ایک ”بیت ایل (مسجد ) تعمیر کی۔چونکہ آپ نے ایسا خدا کی منشاء کے مطابق کیا اس لئے وہ جگہ ارض مقدس یا ارض حرم قرار پائی اور یہی مسجد بنی اسرائیل کے انبیاء کا قبلہ ٹھہری۔یہی وجہ ہے کہ بیت المقدس حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بھی قرآن اور بائیبل کے مطابق ارض حرم کا درجہ رکھتا تھا چنانچہ قرآن کے مطابق انہوں نے بنی اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”اے میری قوم ! ارض مقدس میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ رکھی ہے۔۔۔( المائدہ:۲۲) بائیل سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ موسی فلسطین کو ارض حرم یقین کرتے تھے چنانچہ وہ اپنی نظم میں کہتے ہیں کہ اے خدا تو نے رحم کرتے ہوئے جن کو نجات دلائی تھی اپنی طاقت سے ارض مقدس کی طرف ان کی رہنمائی کی (15:13 Exodus)۔صحیح بخاری صفحہ ۴۷۷ پر ایک حدیث درج ہے جس میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ مسجد حرام اور مسجد اقصے کے ایام بناء میں کس قدر فاصلہ ہے تو آپ نے فرمایا چالیس برس کا۔لیکن دوسری طرف صحیح روایات سے ثابت ہے کہ کعبہ کے بانی حضرت ابرا ہیم ہیں اور بیت المقدس کے بانی حضرت سلیمان ہیں (جو حضرت موسیٰ کے قریبا پونے پانچ سو سال بعد میں آئے تھے ) ان دونوں حدیثوں کی تطبیق اسی صورت میں ہو سکتی ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے۔یعنی خانہ کعبہ اور بیت المقدس دونوں کے بانی حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔حضرت سلیمان نے تعمیر تو اسی مقام پر کی تھی۔اس ارض مقدس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اپنے اس وعدہ کا ذکر فرماتا ہے جو اس نے داؤد علیہ السلام کے ذریعہ زبور میں دیا تھا۔فرمایا: اور یقیناً ہم نے زبور میں ذکر کے بعد یہ لکھ رکھا تھا کہ لازماً موعود زمین کو میرے صالح بندے ہی ورثہ میں پائیں گے، (الانبیاء: ۱۰۶)۔زبور کی