مکتوب آسٹریلیا — Page 281
281 تھے۔وہ اپنے زمانہ کی اہم ترین شخصیات میں سے تھے۔اور ان کی شخصیت نے یہودی مذہب کی نشو و نما پر ایک دور رس اثر پیدا کیا۔انبیاء بنی اسرائیل میں انہیں عزت کا ایک خاص مقام حاصل تھا۔مدینہ کے یہود اور حضر موت کا ایک یہودی فرقہ انہیں خدا کا بیٹا مانتا تھا یہودی علماء ان کا نام کئی اداروں سے منسوب کرتے ہیں۔( قرآن مجید انگریزی مرتبہ ملک غلام فریڈ۔ترجمہ نوٹ ۶۷۱۱) رین ( Renan) نے اپنی کتاب History of the People of Israel کے دیباچہ میں یہ رائے دی ہے کہ یہودیت کے معین ڈھانچہ ( قانون ) کا آغا ز صرف عزرا کے وقت سے ہی کیا جاسکتا ہے۔یہودیوں کے مذہبی پیشواؤں کے ریکارڈ کے مطابق تو عزیز کو اس قابل خیال کیا جاتا ہے۔کہ اگر شریعت پہلے ہی موسیقی کی معرفت نہ دے دی گئی ہوتی تو عزرا کا یہ مقام تھا کہ ان کو اس کے لانے کا ذریعہ بنایا جاتا۔انہوں نے نحمیاہ کے ساتھ مل کر کام کیا اور بابل کی سلطنت میں ۰۲۱ سال کی عمر میں وفات پائی (جیوش انسائیکلو پیڈیا و انسائیکلو پیڈیا برٹینی کا بحوالہ نوٹ ۲۷۱۱ بر صفحه ۲۰۴ ترجمہ وتفسیر انگریزی) باوجود یکہ یہ آیت (سورۃ توبہ ) مدینہ میں نازل ہوئی تھی لیکن مدینہ کے یہود نے کبھی یہ اعتراض نہیں کیا تھا کہ وہ عزیر کو ابن اللہ نہیں مانتے اس لئے کہ وہ ایسا اعتقاد رکھتے تھے۔حضرت عزیر کی بعثت کا تاریخی پس منظر حضرت عزیر علیہ السلام اسرائیلی تاریخ کے جس نازک موڑ پر مبعوث ہوئے تھے اس کے پس منظر کے بیان سے ان کے کاموں کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔کنعان ( فلسطین) کی ابتدائی تاریخ کے مطابق آج سے تقریباً ۰۰۵۴ سال پہلے (۰۰۵۲ ق ) عرب سے سامی (Semite) نسل کے قبائل وہاں آباد ہوئے تھے۔یہ پتھر کا زمانہ تھا چنانچہ اس زمانہ کے کئی ہتھیار یروشلم کے قریب سے دریافت ہو چکے ہیں۔تقریباً ۱۴۰۰ سال قبل مسیح میں یروشلم کا علاقہ مصریوں کا باجگزار بن چکا تھا(Encyd, BritanicaVOL13,P7) اس وقت تک نہ اسرائیلی قوم ابھی وجود میں آئی تھی نہ اسماعیلی۔اسکے قریباً ۰۰۵ سال بعد (۰۰۲۔قم) میں ابراہیم علیہ السلام اپنے شہر اور (۲) سے جو جنوبی عراق میں واقع تھا ہجرت کر کے یروشلم