مکتوب آسٹریلیا — Page 260
260 وہ چیڑ کے درخت جو پندرہ کروڑ سال پہلے مر چکے تھے از سرنو زندگی پا کر بازار میں بکنے لگے اڑھائی سال قبل سڈنی کے نیشنل پارک میں ایک سیاہ رنگ کا پتھر ملا۔تجزیہ سے معلوم ہوا کہ یہ کسی جانور کا اندرونہ ہے جس نے پندرہ کروڑ سال پہلے کسی چیڑ کے درخت کی شاخیں پتے وغیرہ کھائے تھے جو مرنے کے بعد اس کے جسم میں پڑے رہ گئے اور گل سڑ کر چورا بن گئے۔اور پھر لمبا عرصہ گزرنے کی وجہ سے سیاہ رنگ کے پتھر کی شکل اختیار کر گئے یعنی Fossilize ہو گئے۔تجزیہ کے نتیجہ میں اس چیڑ کے درخت کے زندہ DNA مل گئے جس کی نوع کسی طبعی حادثہ کے نتیجہ میں ختم ہو چکی ہوئی ہے۔یہ درخت کروڑوں سال قبل سڈنی کے شمال مغربی علاقہ میں اگا کرتے تھے پھر لاکھوں سال پہلے کوئی ایسا حادثہ گزرا کہ ان کی نسل یا نوع ہی ختم ہوگئی۔جوڈی این اے حالت خواب میں پڑے مل گئے ان کو مناسب عمل کے ذریعہ بڑھا لیا گیا اور وہی چیڑ کے درخت اب دوبارہ اگ آئے ہیں۔چونکہ یہ تجر (Fossilized) پودہ وولمی نیشنل پارک سڈنی سے دستیاب ہوا تھا اس لئے اس کا نام وولی پائن (Wollemi Pine) پیٹنٹ کیا گیا۔یہ پودے اب اتنے بڑے ہو گئے ہیں کہ عنقریب ان کو پھل لگنا شروع ہو جائے گا اور پھر ان کے بیج سے آگے درخت اگائے جاسکیں گے۔اب تک جتنے اگائے گئے ہیں ان میں بیچ کو نہیں بلکہ بچے کھچے ذرات کو استعمال کیا گیا ہے۔چنانچہ