مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 261 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 261

261 حکومت کا متعلقہ محکمہ اب ایسے لوگوں کی تلاش میں ہے جو تجارتی بنیادوں پر اس پودے کو فروخت کریں۔خواہشمند احباب کیمڈن سڈنی کے نزدیک Mount Annan Botanic Garden میں ان پودوں کا معائنہ کر سکتے ہیں۔لیکن وہ کہتے ہیں ان کو اس قسم کے کام کا تجربہ ہونا چاہئے۔اب تک کوئی ایک سوادارے کاروبار میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔ہر پودہ جو بکے گا اس پر متعلقہ محکمہ رائیلٹی وصول کرے گا۔تا اس ریسرچ پر جو خرچ اٹھا ہے اسے پورا کیا جاسکے۔(ماخوذ از سڈنی مارننگ ہیرلڈ ۱۵ / مارچ ۱۹۹۷ء) اللہ کی قدرت ہے کہ وہ درخت جو کروڑوں سال پہلے مرچکے تھے بلکہ مرورزمانہ سے پتھر بن چکے تھے۔وہ ایک بار پھر زندہ ہو کر دنیا کو دعوت نظارہ و فکر دے رہے ہیں۔قرآن کریم نے انسانوں کو اپنی حیات اخروی کو حیات نو کے آئینہ میں دیکھنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔اور اس سے مشابہ قراردیا ہے چنانچہ فرمایا: وو اور ہم اس ( پانی ) کے ذریعہ سے مردہ ملک کوزندہ کرتے ہیں۔اسی طرح مرنے کے بعد نکلنا بھی ہوگا۔۔۔نیز فرمایا: 66 (14:5) اور انہوں نے یہ ( بھی ) کہا ہے کہ جب ہم (مرکز ) ہڈیاں ہو جائیں گے اور کچھ عرصہ بعد گل کر ہڈیوں کا ( بھی ) چورا بن جائے گا ( تو ہمیں از سرنو زندہ کیا جائے گا اور) کیا واقعی ہمیں ایک نئی مخلوق کی صورت میں اٹھایا جائے گا؟ تو (انہیں) کہہ کہ تم (خواہ) پتھر بن جاؤ یا لوہایا کوئی اور ایسی مخلوق جو تمہارے دلوں میں ان سے بھی سخت نظر آتی ہو تب بھی تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا ) بیسن کر وہ ضرور کہیں گے (کہ) کون ہمیں دوبارہ زندہ کر کے وجود میں لائے گا ) تو (انہیں) کہہ کہ وہی (خدا) جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔66 (بنی اسرائیل ۵۰-۵۲) (الفضل انٹر نیشنل 25۔7۔97)