مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 148 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 148

148 (Fence) یا درختوں کے ساتھ نہ باندھا کریں۔نہ ان کو ہوز پائپ یا کوڑوں کے ساتھ مارا جائے۔لیکن اب ان پر دوسری نوعیت کے ظلم ہوتے تھے۔مثلاً ان اداروں کو اتنے کم فنڈ دیئے جاتے کہ وہ ہمیشہ بھو کے ہی رہتے۔ان کی بنیادی ضرورتیں پوری نہ کی جاتیں۔ان کو علاج کی سہولت سے بھی محروم رکھا جاتا چنانچہ بہت تھے جو وقت سے پہلے مرجاتے۔“ ایک اور شخص نے جو کنچلا کے ادارہ میں رہ چکا تھا اور ۱۹۵۰ء میں نو سال کا تھا، کمیشن کے رو برو بیان دیتے ہوئے کہا: آپ کو پتہ ہے ہمیں وہاں کھانے کو کیا ملتا تھا۔گھاس پھونس اور بند (Straw and Buns) بس وہ ہماری چائے تھی۔اب تنکے تو نگلے نہیں جاسکتے تھے جب انہیں چن کر باہر پھینکے لگتے تو ہمیں چھڑیوں سے پیٹا جاتا اور وہ تنکے مجبوراً ہمیں کھانے پڑتے۔“ ایک اور عورت جس کا نام Lola Mcnaughton تھا وہ بھی ان اداروں میں بچپن گزار چکی تھیں بعد میں وہ ایک تنظیم Link Up کی طرف سے ایور جیز کی مسروقہ نسل پر ریسرچ کا کام بھی کرتی رہیں وہ کہتی ہیں : مجھے کوٹا مینڈرا ہوم Cootamundra Home) کے وہ بد نام زمانه صندوق نما کمرے (Box Room) خوب یاد ہیں۔ان میں نہ روشنی کا گزر ہو سکتا تھا نہ ہوا کا۔رات کے وقت لڑکیوں کو ان کمروں میں بطور سزا کے بند کر دیا جاتا تھا۔مجھے عملہ کا وہ رکن بھی یاد ہے جو خاص طور پر بڑا ظلم کیا کرتا تھا بالخصوص ہفتہ کی صبح وہ فرش صاف کروایا کرتا تھا۔ہم ایک جھاڑو (Mop) لے کر اس وقت تک فرش صاف کرتے رہتے جب تک ہم اپنا بچپن کا چھوٹاسا کالا منہ نہ دیکھ سکتے۔اگر اتنا ابھی صاف نہ ہوتا تو وہ شخص پانی کا ایک ڈول وہاں پھینک دیتا اور کہتا کہ دوبارہ صاف کرو۔میرے والدین دور کا سفر کر کے اپنے گاؤں Tingha سے چل کر مجھے ملنے کے لئے آئے لیکن