مکتوب آسٹریلیا — Page 94
94 دعا کرے تو چلو مان لیا کچھ فائدہ ہو گا لیکن کسی اور سے دعا کرائیں تو اس سے آپ کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔معاوضہ پر دوسروں سے دعا کروانے کا یہود کی طرح مسلمانوں میں بھی رواج ہے۔اس کی ایک مثال کسی وفات یافتہ شخص کی روح کو ثواب پہنچانے کی غرض سے اجرت پر قرآن پڑھانا ہے۔ایک دفعہ میرے ایک غیر از جماعت دوست کے والد فوت ہو گئے۔سوم کی رسم پر قرآن خوانی کا انتظام کرنے کے لئے وہ لاہور کے کسی یتیم خانہ میں گئے۔وہاں کے منتظم نے کہا کہ قرآن پڑھنے کے ہمارے دور یٹ ہیں ایک تین روپے فی سیپارہ اور دوسرا چھ روپے سیپارہ ( کوئی بیس سال پرانی بات ہے اب تو ریٹ بڑھ گئے ہونگے ) وہ کہتے ہیں میں نے منتظم صاحب سے پوچھا کہ دونوں ریٹوں میں کیا فرق ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ تین روپے والے ریٹ میں قرآن جلد جلد پڑھا جاتا ہے اور چھ روپے والے ریٹ میں احتیاط سے پڑھا جاتا ہے جس پر تقریباً دو گنا وقت لگتا ہے۔پھر انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دیکھیں جس طرح اچھی طرح قرآن پڑھنے کا ثواب آپ کے والد کو پہنچے گا ویسے ہی جلد جلد پڑھنے میں جو غلطیاں رہ جائیں گی ان کا گناہ بھی آپ کے والد صاحب کے سر ہوگا۔اب فیصلہ آپ کا ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ میں نے والد صاحب کی روح کو ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کرانی ہے لہذا چھ روپے والا ریٹ منظور ہے۔دوسروں سے دعا کرانے کے سلسلہ میں دو قسم کے خیالات عوام میں پائے جاتے ہیں۔ایک تو وہ ہیں جو عادتاً دوسروں سے دعا کے لئے کہتے رہتے ہیں۔نہ دعا کرانے والا سنجیدہ ہوتا ہے اور نہ کرنے والا اور نہ ان کے درمیان کوئی ایسا تعلق ہوتا ہے کہ دعا کرانے والے کا دکھ دعا کرنے والے کا دکھ بن جائے گویا وہ اپنے ہی دکھ کے دور ہونے کے لئے دعا کر رہا ہے۔ایسے لوگ جب ملیں گے تو کہیں گے بس جی آپ کی دعا سے میر افلاں کام بن گیا ہے جب کہ وہ خوب جانتے ہیں کہ نہ میں نے ان کو دعا کے لئے کہا اور نہ انہوں نے کی ، صرف بطور تکلف اور احترام کے ایسا کہہ دیتے ہیں۔اس گروہ کے مقابلہ میں دوسرے وہ ہیں جو مادہ پرست معاشرہ کے زیر اثر دعا کی اہمیت سے ہی لاعلم ہوتے ہیں۔ایسے لوگ دوسروں کو دعا کے لئے کہنا غیر ضروری تکلف سمجھتے ہیں۔بیمار ہوں تو کسی کو بتا ئیں گے نہیں کہ کسی نے دعا تو کرنی نہیں خواہ مخواہ پریشان کرنے کا کیا فائدہ ہے۔دعائیہ اعلانات کو محض ذاتی شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔قرآن وحدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں گروہ افراط و تفریط کا شکار ہیں۔