مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 87 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 87

87 تھوتھنی (Snout) کو صاف کرنے کے لئے دایاں پنجہ استعمال کرتا ہے یا بایاں اور اس کا تعلق دماغ کی ساخت اور مینڈک کے ارتقاء سے کیا ہے۔اب تک تو یہی سنتے آئے تھے کہ ”لو جی بی مینڈ کی کو بھی زکام ہوا، جس سے غالباً یہ مرا تھی کہ وہ جو ہر وقت پانی نمی اور سردی میں رہے اس کو بھی زکام ہونے لگے تو عجیب بات ہے۔اب پتہ چلا کہ مینڈک کو نہ صرف زکام ہوسکتا ہے بلکہ وہ اپنے ناک کوصاف بھی کرتا ہے۔بہر حال ان کی تحقیق نے یہ بتایا کہ یورپ کے مینڈک معدہ اور ناک وغیرہ کی صفائی کے لئے دایاں پنجہ استعمال کرتے ہیں اور آسٹریلیا کے مینڈک دونوں کو۔اس سے خیال پیدا ہوا کہ شائد ان کے دماغوں کی ساخت مختلف ہو یا اس میں ارتقاء کے عمل کو کچھ دخل ہو۔سائنس دانوں نے معلوم کیا ہے کہ جس طرح انسانوں کے دماغ دائیں بائیں سے بظاہر ایک ہونے کے باوجود مختلف کام سرانجام دیتے ہیں ایسا ہی سلسلہ جانوروں ، بندروں، چوہوں ، پرندوں وغیرہ میں بھی ہے۔گویا کثرت میں بھی ایک وحدت ہے۔گو بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن اللہ کے کاموں پر حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح اس نے اپنی ہر مخلوق کو پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا بلکہ اس کی فطری اور آسمانی ہدایت کا بھی سامان کیا ہے۔جانوروں کو اپنی بقا اور حفاظت کے لئے کیا کرنا چاہئے۔اس کی ہدایت بطور جبلت Purposiveness i) (Instinct ان کے اندر ودیعت کر دی گئی ہے الغرض ہر مخلوق کو اس کے مناسب حال ہدایت دی گئی ہے کہ ہر چیز میں ایک اعلیٰ درجہ کا منصوبہ، ارادہ اور مقصدیت نظر آتی ہے ورنہ ایک مینڈ کی کے بچہ کوکس نے سکھایا کہ زہریلی یا نقصان دہ چیز کو معدہ سے کیوں اور کیسے صاف کرنا ہے اور تھو تھنی کیسے صاف کرنی ہے اور پھر دائیں پنجہ سے صاف کرنی ہے یا بائیں پنجہ سے یا دونوں سے۔اللہ تعالیٰ کی ہستی پر یہ ایک زبردست دلیل ہے کہ دیکھو کس طرح کائنات کا ذرہ ذرہ اپنے مناسب حال ہدایت سے فیضیاب ہورہا ہے خواہ وہ عالم جمادات ہو، نباتات ہو، حیوانات ہو یا اشرف المخلوقات انسان۔اللہ تعالیٰ کی ہستی پر یہ وہ دلیل ہے جو موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے سامنے پیش کی تھی۔اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کو دلیلیں بھی کیا خوب سمجھاتا ہے۔فرعون نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا کہ اے موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے اور جواب میں موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ ” رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى (ط:۵۰) یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو (اس کی ضرورت کے مطابق ) اعضاء