مکتوب آسٹریلیا — Page 61
61 مغرب میں دعاؤں کی تأثیر پر عوام کی رائے کیا ہے؟ مغرب میں تجس پایا جاتا ہے کہ کسی طرح پتہ چلے کہ دعاؤں میں واقعی کوئی اثر ہوتا ہے یا نہیں ؟ اور کیا واقعی کوئی ایسی بالا ہستی ہے جو دعاؤں کو سنتی اور قبول کرتی ہے۔اس غرض کے لئے حال ہی میں امریکہ اور آسٹریلیا میں متعد د سروے ہوئے ہیں جن کے نتائج اخباروں میں چھپے ہیں۔امریکہ میں گیلپ پول Gallup (Poll) کے سروے سے پتہ چلا ہے کہ نوے فیصد امریکی دعا کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ خدا ہماری دعاؤں کو کسی نہ کسی شکل میں ضرور قبول کرتا ہے۔۳۰ فیصد امریکیوں نے بتایا کہ ان کی بیماری میں اپنی اور دوسروں کی دعاؤں کی وجہ سے غیر معمولی رنگ میں صحت حاصل ہوئی ہے۔اس کے بالمقابل آسٹریلیا میں دعا کرنے والوں اور اس پر یقین رکھنے والوں کی تعداد تھوڑی ہے۔۵۴ فیصد آسٹریلوی باشندوں نے کہا کہ وہ با قاعدہ دعا کرتے ہیں جبکہ ۲۹۷ فیصد نے کہا کہ انہوں نے کبھی دعا نہیں کی۔اسی طرح کئی ہسپتال والوں نے مریضوں پر دعا کا اثر معلوم کرنے کے لئے سروے کئے ہیں۔سان فرنسکو کے جنرل ہسپتال میری لینڈ آسٹریلیا کے ہسپتال اور ایڈز کے مریضوں پر دعا کو مفید پایا گیا لیکن میوکلینک آسٹریلیا کے۷۵۰ مریضوں پر دعا کا کوئی اثر نظر نہیں آیا۔بہر حال جو نتیجہ انہوں نے نکالا ہے وہ یہ ہے کہ فرماں روائی تو عقلیت پسندی کی ہے لیکن دعا ئیں بھی ایک ضرورت پوری کرتی ہیں: (Rationaliyy Reigns, But Prayers can still serve a need)