مکتوب آسٹریلیا — Page 60
60 الغرض گھوڑے اپنے مالک کے احکام کو سنتے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں اور ایسا نمونہ پیش کرتے ہیں کہ ان کی ذہانت اور وفاداری ایک ضرب المثل بن چکی ہے۔قرآن مجید میں بھی گھوڑوں کا ذکر متعدد بار آیا ہے بلکہ ایک سورۃ کا تو نام ہی ”العادیات یعنی دوڑنے والے گھوڑے رکھا گیا ہے اور اس میں بالخصوص ہانپتے ہوئے دوڑنے والے گھوڑوں کو بطور گواہ پیش کیا گیا ہے اور ان کا تعریفی انداز میں ذکر مومنوں کے لئے بطور ایک انعام اور سبق کے کیا گیا ہے۔اس سورۃ میں گھوڑوں کا ذکر ایسے پیارے انداز میں کیا گیا ہے کہ ان کی ذہانت اور اطاعت کی تصویر آنکھوں کے سامنے ابھر کر آجاتی ہے۔یہ گھوڑے اپنے مالکوں کے احکام کے تحت ایسے جوش وخروش اور ذوق وشوق سے دوڑتے ہیں کہ اس کے نتیجہ میں ہانپنا شروع کر دیتے ہیں۔رستے کی سختیوں کو بھی خاطر میں نہیں لاتے چنانچہ ان کے سموں سے چنگاریاں نکلتی ہیں۔پھر لمبے اور مشکل سفر کے بعد نہ ہمت ہارتے ہیں اور نہ آرام کا مطالبہ کرتے ہیں بلکہ اپنے مالک کی اطاعت میں صبحدم تیزی سے غبار اڑاتے ہوئے دشمن کو غارت کرنے کے لئے اس پر پڑتے ہیں اور جان کی بازی لگاتے ہوئے دشمن کی صفوں میں جا گھستے ہیں اور تیروں کی بارش کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔خدا ان کی مثال پیش کر کے فرماتا ہے کہ ان گھوڑوں کی طرف دیکھو کہ وہ اپنے مالک کی کیسی اطاعت کرتے ہیں تمہارا بھی ایک مالک ہے اور وہ ا حقیقی مالک ہے۔اگر تم ان وفادار اور اطاعت شعار گھوڑوں کوغور سے دیکھو گے تو تمہارے نفوس خود گواہی دیں گے کہ تم اپنے مالک کے انعامات کی قدر نہیں کرتے بلکہ ناشکری کرتے ہو۔تم اطاعت اور وفا کا سبق اپنے گھوڑے سے ہی سیکھو۔( الفضل انٹر نیشنل 9۔4۔99)