مکتوب آسٹریلیا — Page 38
38 دوسرے کروں اور ہماری کہکشاں کے اکثر کروں کی سطح کا بھی یہی حال نظر آتا ہے۔اگر یہی حال زمین کی سطح کا بھی ہوتا تو ہمارا وجود کہاں ہوتا۔ہمارے جسم اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے زمین کو تمام قوتیں ودیعت کر دی گئی ہیں اور سطح زمین کو عین ہمارے مناسب حال بنایا گیا ہے۔دوسرے کروں کے مقابلہ میں زمین ایسے لگتی ہے جیسے پتھروں کے پہاڑ میں کوہ نور ہیرا۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے احسانوں کے بیان میں سطح زمین کا بھی ذکر فرمایا ہے جیسے فرمایا ' والی الارض كيف سطحت “ ( الغاشیہ (۲۱) یعنی کیا دیکھتے نہیں کہ زمین کس طرح بچھائی گئی ہے اور ہموار کی گئی ہے سطح زمین کو قابل رہائش بنانے میں اس کی فضاء، ہوا، پانی مٹی ، پہاڑ ، سمندر، اس کے مدفون خزائن اور اس پر موجود عناصر اور ان کا صحیح تناسب، باہمی تعلق سبھی اپنا مفوضہ کردار ادا کرتے ہیں۔اب جوں جوں مریخ کی سطح کا حال معلوم ہورہا ہے زمین کی سطح کی قدرو قیمت اتناہی ابھر کر سامنے آتی ہے۔اور اس موازنہ سے یہ حکمت سمجھ میں آتی ہے کہ خدا نے بطور خاص سطح زمین کا ذکر بطور انعام کیوں کیا ہے ورنہ ہم تو بچپن سے یہی سنتے آئے تھے کہ جیسی ہماری زمین ہے ایسے ہی دوسرے کروں وغیرہ کی زمین ہے اور چودہ سو سال پہلے سطح زمین کی قدرو قیمت کا اندازہ کون کر سکتا تھا۔(الفضل انٹر نیشنل 19۔9۔97)