مکتوب آسٹریلیا — Page 37
37 ان تصاویر کے مطابق مشتری کے اوپر کوئی سوکلومیٹر ایمونیا (Amonia) کے بادل ہیں جن میں گھسا نہیں جاسکتا۔امونیا کے بادلوں کے نیچے کہیں کہیں سفید پانی کے بادل ہیں جو تیزی سے بھاگتے پھرتے ہیں گو یا شدید طوفان کی زد میں ہوں۔ان طوفانوں کی موٹائی بھی ۶۵ تا۰۰ اکلومیٹر تک ہے۔لیکن عجیب بات ہے کہ گو بادل تو پانی کے ہیں پر نہ گر جتے ہیں اور نہ برستے ہیں۔ان تصویروں میں نہ بارش کے آثار نظر آئے ہیں نہ بجلی کی چمک کے۔بارش نہ ہونے کی یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ مشتری کی فضا (Atmosphere) زمین جیسی نہیں ہے بلکہ ایک ایسے برتن کی طرح ہے جس کا پیندا نہ ہو۔اس لئے زمین کی طرح بارش سمندروں پر نہیں برستی بلکہ مشتری کے اندرونہ میں جو آگ بھڑک رہی ہے اس کی وجہ سے اس کے سیدھے بخارات ہی بنتے ہیں اور پھر کثیف ہو کر پانی میں بدل جاتے ہیں گو یا گرم پانی کا ایک بہت بڑا حمام ہو۔مشتری کے اردگرد گیسوں کا اتنا بڑا گھیرا ہے کہ اس نے اپنے مدار میں درجنوں چاندوں کو گھیر رکھا ہے۔ان میں آکسیجن اور ہائیڈ روجن بھی ہیں جو باہم مل کر پانی بناتی ہیں۔اور سلفر اور کار بن کی بھی کثیر مقدار ہے۔غالبا یہ عناصر وہاں دمدار ستارے (Comets) لائے ہونگے۔ہوسکتا ہے کہ زمین پر بھی یہ عناصر اس کی زندگی کی ابتداء میں اسی طرح باہر سے پہنچے ہوں۔یہ گیسیں بھی تیزی سے حرکت کرتی نظر آتی ہیں تقریباً ایسے ہی جیسے زمین کے اوپر۔لیکن مشتری کے فضائی طوفان ہماری زمین کی طرح نہیں ہیں جو آئے اور گزر گئے۔بلکہ جب چلنے پر آتے ہیں تو ہزاروں سال تک چلتے چلے جاتے ہیں۔مشتری کی فضا مختلف علاقوں میں مختلف ہوتی ہے کہیں نم اور کہیں خشک۔( بحوالہ سڈنی مارٹنگ ہیرلڈ۔۷ جوان ۱۹۹۷ء) پچھلے دنوں امریکہ کے Pathfinder نے مریخ کی سطح کا حال بھی سنایا کہ وہاں کی مٹی لوہے کی آمیزش کی وجہ سے سرخ ہے۔سطح پر چھوٹے بڑے پتھر لا تعداد میں بکھرے پڑے ہیں۔موسم شدید سرد اور خشک ہے۔شہب ثاقب بموں کی طرح اس کی سطح پر ہر وقت ٹکراتے رہتے ہیں۔دن کو درجہ حرارت منفی ۱۲ڈگری ہے تو رات کو منفی ہے۔ہوا کا دباؤ صرف ۶۶۷۵ ملی بار ہے جبکہ زمین پر اوسط دباؤ اس سے ۱۵۰ گنا زیادہ یعنی ۰۱۳۲۵ املی بار ہے۔اتنے کم دباؤ پر نہ تو کوئی کام ہوسکتا ہے نہ سانس لیا جا سکتا ہے کچھ ایسا ہی حال چاند کی سطح کا چاند پر جانے والوں سے بھی سن چکے ہیں۔نظام نشسی کے