مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 427 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 427

427 آسٹریلیا میں اینگلیکن چرچ کا حال بھی اس سے مختلف نہیں۔اس چرچ کی مجلس Diocese نے 2991ء میں اپنے ہی چرچ کی قومی مجلس General Synod کا یہ فیصلہ مستر د کر دیا تھا کہ عورتیں بھی پریسٹ بن سکتی ہیں انہوں نے کہا تھا کہ بائبل کے مطابق صرف مرد ہی پادری بن سکتا ہے اور مذہبی رسومات کی امامت کر سکتا ہے۔چنانچہ جوعورتیں پر یسٹ بنے کی متمنی ہیں وہ سڈنی کے چرچ کو چھوڑ کر دوسرے چرچوں میں قسمت آزمائی کر رہی ہیں جن میں سے ایک ریورنڈ لوسل پائپر ہیں جنکی ایک دوسرے شہر نیو کاسل کا منتقلی ایک نمایاں خبر کا موضوع بنی ہے۔آسٹریلیا میں اینگلیکن چرچ نے ایک اور جدت بھی کی ہے۔شروع سے یہ طریق چلا آرہا ہے کہ بچے کو چرچ لے جا کر عیسائی بناتے تھے اور اس کو بپتسمہ دے کر اس کا موروثی گناہ دھوتے اور عیسائی نام دھرتے اور جب تقریباً چودہ سال کا ہو جاتا تو اسے Cfirmation کی رسم کے ذریعہ چرچ کا پور امبر بناتے اس کے بعد وہ تمام مذہبی عبادات و رسومات میں حصہ لینے کا حقدار بن جاتا۔لیکن اب چونکہ اس چرچ کے ممبروں کی تعداد گرتی جارہی ہے اس لئے انہوں نے چرچ کی اس آٹھ سوسالہ قانون کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب جلد ہی تین سالہ بچے بھی عبادات میں پورے ممبروں کی طرح شریک ہوسکیں گے۔گو یا یوں لگتا ہے کہ عیسائیت کا ہر قاعدہ واصول توڑ پھوڑ کا شکار ہورہا ہے اور عیسائیت کا قلعہ اپنے کلچر کے سہارے ہی قائم ہے۔(الفضل اند نیشنل 10۔5۔96)