مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 402 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 402

402 دنیا کی عمر الغرض اگر ایک لاکھ دور گزرے ہوں اور ہر دور قرآن کریم کے مطابق پچاس ہزار سال کا ہو تو زمین پر انسانی زندگی کی عمراب تک پانچ ارب سال بنتی ہے۔اور حیوانات اور نباتات کی عمر اس سے زائد ہوگی چونکہ زمین کو ٹھنڈا ہونے اور آبادی کے قابل ہونے کے لئے بھی ایک طویل عرصہ درکار تھا لہذا زمین کی عمر نباتات کی عمر سے زائد ہونی چاہیئے۔ظاہر ہے کہ کائنات کی عمر زمین کی عمر سے بھی زائد ہوگی۔ہمارے زمینی دور کے جب ابتدائی تالیس ہزار سال گزر گئے تو آدم علیہ السلام پیدا ہوئے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک ۴۷۳۹ سال اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے اب تک (یعنی ۱۹۶۸ء تک) ۱۳۷۸ قمری سال گزرے ہیں گویا ہمارے پچاس ہزار سالہ دور میں سے ۴۹۱۱۷ سال اور دور نبوت سے یا آدم علیہ السلام کی پیدائش سے اب تک ۶۱۱۷ سال گزر چکے ہیں اور ہمارے دور کے خاتمہ میں تقریبا نو سو سال باقی ہیں۔گویا ہم دنیا کے آخری دنوں میں سے گزر رہے ہیں اور قرآن مجید نے جو آخری زمانہ کی نشانیاں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمائی تھیں وہ سب پوری ہو چکی ہیں۔یہاں یہ وضاحت مناسب ہوگی کہ یہ سب اندازے قرب قیامت کے ہیں جس کی بہت سی علامات قرآن کریم اور احادیث میں مذکور ہیں لیکن یہ امر کہ وہ ساعت عین کب واقع ہوگی اور ہمارے دور کی گھڑی اپنے آخری منٹ کا کب اعلان کرے گی ؟ اس کا علم صرف خدا تعالیٰ ہی کو ہے اور یہی قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے۔وحدت اور کثرت کے دور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات سے معلوم ہوتا ہے کہ وحدت اور کثرت کے بھی دور ہوتے ہیں۔چنانچہ حضوڑہ فرماتے ہیں: خدا تعالیٰ قدیم سے خالق چلا آتا ہے لیکن اس کی وحدت اس بات کو بھی چاہتی ہے کہ کسی وقت سب کو فنا کر دے۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ وقت