مکتوب آسٹریلیا — Page 396
396 ارب سال لگنے چاہئیں۔سائنسدانوں کے نزدیک دنیا میں کسی بھی چیز کی عمر دریافت کرنے کے لئے اس سے بہتر اور کوئی طریقہ نہیں۔اب ان چٹانوں کا معائنہ کرنے سے جن میں یورینیم اور تھوریم پایا جا تا ہے یہ دیکھ کر ان میں بچا کھچا سیسہ کتنی مقدار میں ہے ان چٹانوں کی عمرکا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔جوانداز ہ اس طرح پر لگا یا گیا ہے وہ تقریباً دوارب سال بنتا ہے۔قرآن مجید کی رو سے ایک ایک زمینی دور پچاس ہزار سال کا ہوتا ہے اور اس کا آخری سات ہزار سالہ حصہ دور انسانیت یا دور نبوت کہلاتا ہے چنانچہ سورہ معارج میں آتا ہے کہ سائل پوچھتا ہے کہ دنیا کو ختم کر دینے والا اہل عذاب کب آئے گا؟ جس کے جواب میں خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ عذاب ذو المعارج خدا تعالیٰ کی طرف سے آکر رہے گا۔کب آئے گا ؟۔اس کے جواب میں ارشاد ہوا تَعْرُجُ الْمَلَئِكَةُ وَالرُّوْحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَنَةٍ (المعارج : ۵) یعنی عام فرشتے اور کلام الہی لانے والے فرشتے اس خدا کی طرف اتنی مدت میں چڑھا کرتے ہیں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوتی ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ ایک زمینی دور کا خاتمہ پچاس ہزار سال کے بعد ہوتا ہے۔یعنی ہر پچاس ہزار سال کے بعد دنیا کا نظام چلانے والے اور کلام الہی لانے والے فرشتے اپنے فرائض سرانجام دے کر خدا تعالیٰ کی طرف لوٹ جایا کرتے ہیں۔فرشتوں کی ڈیوٹی یا شفٹ تبدیل ہوتی ہے۔پہلے دور کے فرشتے واپس لوٹ جاتے ہیں اور دوسرے دور کے فرشتے چارج سنبھال لیتے ہیں۔اس آیت کی تشریح میں پرانے مفسرین اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے دنیا کی عمر پچاس ہزار سال ہی لکھی ہے یعنی اس دور کی جس کا ہمارے ساتھ تعلق ہے۔حضور تفسیر صغیر میں اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں: ر صلحاء اور اولیاء نے حضرت آدم سے لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک پانچ ہزار سال کی عمر قرار دی ہے مگر اندازے الگ الگ