مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 356 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 356

356 تخلیقی معجزه لیکن اونٹ کی خصوصیات پر ذرا غور سے نگاہ ڈالیں تو یہ اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم انعام دکھائی دیتا ہے۔یہ ایک تخلیقی معجزہ ہے۔اور بجا طور پر صحرا کا جہاز کہلاتا ہے۔صحرا ہماری زمین کے چھٹے حصہ پر پھیلا ہوا ہے۔جہاں بار برداری کے لئے اونٹ ہی ایک کارگر ذریعہ ہے۔کل دنیا میں تقریباً ڈیڑھ دو کروڑ اونٹ خدمت انسان میں مشغول ہیں۔پاکستان اور بھارت کے علاوہ براعظم افریقہ۔مشرق وسطی روس۔چین۔منگولیا۔افغانستان اور ایران کے ممالک بالخصوص اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔راجستھان سیکٹر میں جو پاکستان اور بھارت کی جنگ ہوئی اس میں دونوں ممالک کی فوجوں نے اس سے فائدہ اٹھایا۔عجیب خواص کا حامل غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اونٹ کے جو اعضاء زیادہ بے ڈھنگے نظر آتے ہیں وہی سب سے زیادہ قیمتی صفات کے حامل ہیں۔آنکھوں کی بناوٹ ایسی غلاف دار اور جھالر والی کہ صحرا میں اڑنے والی ریت کے لئے بطور چھلنی کے کام آتی ہیں اور ریت آنکھوں تک نہیں پہنچ پاتی اس کے کان اور نتھنے ایسے کہ جب ارد گر دریت اڑے تو انہیں بند کر لیتا ہے۔پاؤں جو غیر متناسب طور پر بڑے نظر آتے ہیں وہ چونکہ چوڑے۔باہر کو پھیلے ہوئے اور گری دار ہیں ریت میں نہیں دھنستے۔لمبی گردن کے ذریعہ اسے صحراؤں کی جھاڑیاں چننے میں آسانی ہوتی ہے۔اور جب بوجھ لے کر اٹھتا ہے تو گردن کا زور استعمال کرتا ہے۔اس کے ہونٹ بڑے موٹے موٹے اور سخت ربڑ جیسے ہوتے ہیں۔اور سخت نو کیلے کا نٹوں کو بھی کتر لیتے ہیں۔ایسے سخت کانٹے بھی جو جوتوں کے تلووں سے بھی گذر جائیں۔جھاڑیاں توڑنے کے لئے اونٹ کو زبان باہر نہیں نکالنی پڑتی اور اس طرح جسم کا پانی زبان کے ذریعہ ضائع نہیں ہوتا۔اونٹ کا معدہ بھی خوب ہے اس کے چار حصے ہوتے ہیں۔جس میں کھائی ہوئی اشیاء بار بار چکر لگاتی رہتی ہیں۔اونٹ اگر بھوکا ہو تو کسی جھونپڑی کے پاس سے گزرتے ہوئے چھت کا خشک گھاس پھونس بھی کھا جائے گا پلاسٹک اور تانبہ کی چیزیں بھی نگل جائے گا۔اور معدہ کے اس عمل میں ایسی چیزوں سے بھی طاقت حاصل کر لیتا ہے جن میں بظاہر غذائیت کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔یہی