مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 355 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 355

355 خدائے رحمن کا ایک انعام۔اونٹ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اونٹوں کی پیدائش پر غور وفکر کرنے کی دعوت دی ہے۔چنانچہ سورہ غاشیہ میں ارشاد ہوا کہ اَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ کہ کیا وہ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کس طرح تخلیق کئے گئے ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ کے حسن واحسان اور صفات کا ملہ وحسنہ کا آئینہ دار ہے اور چونکہ ہر چیز کو خلعت وجود اس غیر محدود طاقتوں والی ہستی کے ہاتھوں پہنایا گیا۔لہذا اس کے راز قیامت تک کھلتے جائیں گے۔اور یہ سلسلہ غیر محدود اور غیر ختم ہوگا۔اونٹ پر ایک اچپیٹتی نظر سرسری نگاہ سے دیکھیں تو یہ جانور بے ڈھنگا عجیب وغریب موٹے موٹے لٹکتے ہونٹوں والا غیر متناسب لمبی گردن۔پتلی ٹانگوں۔چوڑے چوڑے پاؤں۔ناخوشگوار بو اور کھنکھناتے گھٹنوں والا نظر آئے گا۔یوں لگتا ہے جیسے فرشتوں کی ایک کمیٹی نے مل کر بنایا ہو دیکھنے والوں نے کہا اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی۔اور کسی کو یہ فکر کہ دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔اس کا شتر کینہ ضرب المثل اس کو سدھانا کار دشوار اور اس پر سواری بہت مشکل ہے۔گو چہرے سے بڑا متین وسنجیدہ دکھائی دیتا ہے۔