مکتوب آسٹریلیا — Page 325
325 ٹھہرے تھے۔نعوذ باللہ نہ وہ بچ نکلے تھے ، نہ دور کہیں چشموں والی زمین میں چلے گئے تھے۔ایک عیسائی جب ان علامتوں کو دیکھے گا تو وہ کہے گا کہ یہ نیک استاد مسیح کیسے ہو سکتا ہے۔صحیح تو مر کر جی اٹھے تھے اور اپنے زخمی بدن کے ساتھ بادلوں میں ہو کر آسمان پر چلے گئے تھے۔اگر وہ بچ گئے تھے اور بجائے آسمان کے کسی اور چشموں والے علاقہ میں چلے گئے تھے تو پھر وہ خدا کے بیٹے کیسے ہوئے اور کفارہ کیا ہوا ؟ ایک غیر احمدی مسلمان بھی نیک استاد کے لباس میں حضرت عیسی علیہ السلام کو نہیں پہچان سکے گا۔اس لئے کہ اس کے عقیدہ کے مطابق تو وہ صلیب پر چڑھے ہی نہیں ، وہ تو کوئی چور تھا جس کی شکل قدرت خداوندی سے عیسی جیسی ہو بہو بنادی گئی تھی اور وہ چور صلیب دیا گیا جب کہ عیسی علیہ السلام کو خدا نے بجسد عنصری چوتھے آسمان پر اٹھالیا۔نہ ان کا خون بہا، نہ خدا کو اسے شیروں کے منہ میں آئے ہوئے شکار کی طرح بچانے کی ضرورت پڑی اور نہ وہ کسی دور کی زمین میں ہجرت کر گئے تھے۔اس لئے یہ نیک استاد عیسی نہیں ہو سکتے وہ کوئی اور خدا کا نیک بندہ ہوگا۔لیکن ایک احمدی مسلمان کے لئے نیک استاد کے پردہ میں چھپے ہوئے حضرت عیسی علیہ السلام کو پہچان لینا کچھ بھی مشکل نہیں۔یہ ساری باتیں جو صحائف قمران میں لکھی ہوئی ہیں اور اوپر بیان ہوئی ہیں خدا سے علم پا کر بہت پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام صاف صاف بیان فرما چکے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں جو ۱۹۸۱ء میں شائع ہوئی لکھا کہ مجھے خدا نے بذریعہ الہام بتایا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہوکر وعدہ کے موافق تو آیا ہے۔“ (ازالہ اوہام صفحه ۵۶۱-۵۶۲) پھر ۱۹۸۱ء میں آپ نے کتاب ” مسیح ہندوستان میں تحریر فرمائی اور اس میں قرآن ، بائبل تاریخ اور حکمت کی کتابوں سے حضرت عیسی علیہ السلام کے بارہ میں ثابت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مخالفوں کی تدبیروں کو نا کام کیا اور صلیب پر موت سے بچا کر انہیں کشمیر کی چشموں والی زمین میں پناہ دی۔پس صحائف قمران کی شکل میں خدا کا ایک عظیم نشان ظاہر ہوا ہے جس سے آنحضرت علی قرآن کریم اور حضرت مسیح موعود کی صداقت ثابت ہوتی ہے۔یہ صحائف پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اے یہود ! جس مسیح کا تمہیں انتظار تھاوہ تو کب کا آچکا اور اے عیسائیو! حضرت مسیح علیہ السلام نہ خدا