مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 301 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 301

301 الْمَلَاءِ الْاعْلیٰ: ( ان کا ہنوں کی ناقل) جبرئیل اور اُسکے قرب والے ملائکہ تک رسائی نہیں مگر وہ زمین کے ملائکہ یا ادھر ادھر سے کچھ اڑا لیتے ہیں کچھ جھوٹ ملا دیتے ہیں۔شــــــاب ـــاقــب : چمکتا ہو شعلہ پڑتا ہے اور وہ جھوٹے ثابت ہوتے ہیں رَجُوْمـاً لنشيطين : منجمین اور کا ہن بھی انہیں میں سے ہیں کہ جو رَجْـمـا بِالْغَيْبَ ( تیر نگہ۔ناقل ) کرتے ہیں آئندہ کی باتیں بیان کرتے ہیں اور ستاروں کو دیکھ کریگہ بازیاں کرتے ہیں۔یہ ستارے ان کے واسطے تنگہ بازی کا ایک ذریعہ بن گئے ہیں۔“ ( ایضاً صفحه ۶ ۴۷ پاره ۲۳ رکوع ۵) حضرت خلیفہ المسح اول کی اس تشریح کے مطابق نجومی کا ہن جولوگوں کو اپنے جھوٹے غیب دانی کے رعب سے نبیوں کے ماننے سے دور رکھتے ہیں وہ ستاروں کے ذریعہ تخمینے لگاتے ہیں لیکن جب زمانہ میں کوئی نبی۔مامور یا مصلح موجود ہو اور وہ خدا سے علم پاکر ان کے مقابلہ میں پیشگوئی کرتا ہے تو وہ ان پر چمکتے ہوئے شعلہ کی طرح گرتی ہے اور ان کو جھوٹا ثابت کر دیتی ہے وہ حسد سے جل بھن جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو ایسے شیطانوں سے محفوظ کیا ہوا ہے یعنی منجموں اور کاہنوں کو ان ستاروں سے غیب کا کوئی سچاعلم حاصل نہیں ہوسکتا وہ صرف تیر تکے ہی مار سکتے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح اول کی دوسری تشریح آپ فرماتے ہیں کہ: د تمام عقلاء میں یہ امر مسلم ہے کہ اس زمین کا کوئی واقعہ ہدوں کسی سبب کے ظہور پذیر نہیں ہوتا بلکہ صوفیائے کرام اور حکماء عظام اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی امر حقیقت میں اتفاقی نہیں ہوا کرتا۔تمام امور علل اور حکم سے وابستہ ہیں۔“ (ایضاً صفحہ ۶۱۱)