مکتوب آسٹریلیا — Page 302
302 وو اور پھر فرماتے ہیں: اور شہابوں کے بارے میں لکھا ہے کہ دیکھو ایوب ۳۸ باب ۳۶ آیت میں ہے یا کس نے شہابیوں کو فہمید عطا کی اس سے اتنا پتہ لگتا ہے کہ شہابیوں کو بھی فہمید ( سمجھ۔ناقل ) ہے۔پر آگے بیان نہیں کیا گیا کہ کیا فہمید ہے اور اس فہمید سے کیا کام لیتے ہیں۔اور زبور میں ہے۔وہ اپنے فرشتوں کو روحیں بناتا ہے اور اپنے خدمت گذاروں کو آگ کا شعلہ اب تک ہم نے یہ باتیں بیان کی ہیں کہ Meteors۔ایکا پات۔شہاب ثاقب اور شعلہ ہائے تار آسمان سے گرتے نظر آتے ہیں اور کتب یہود اور مسیحیوں نے بھی نہیں بتایا کہ کیوں گرتے ہیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ یہ فعل الہی ہے اسلئے لغو بھی نہیں بلکہ ضرور ہے کہ عادت اللہ کے مطابق اس میں بڑی حکمتیں ہوں، (ایضاً صفحه : ۶۱۰) ہر امر کیلئے جہاں طبیعی واسلے ہوتے ہیں وہیں روحانی واسطے بھی ہوتے ہیں: حضرت خلیفہ اسیح اول فرماتے ہیں: اب جبکہ تم ان ( مادی وطبیعی۔ناقل ) وسائط کے قائل ہو اور اضطرارا قائل ہونا پڑتا ہے تو روحانی امور میں کیوں وسائط کے منکر ہو۔خدا تعالیٰ کے ہستی کو مان کر بھی تم ملک اور شیاطین کے وجود پر کیوں ہنسی کرتے ہو۔افسوس اسکا معقول جواب آج تک کسی نے نہیں دیا۔ناظرین جسطرح بچے وسائط مشاہدات میں الہی ذات وراء الواراء ہے اور یہ ضرور ہے اسی طرح الہی ذات روحانیات میں بھی وراء الوراء ہے۔“ (ایضاً صفحه : ۶۱۴) یعنی جس طرح علت و معلوم Cause and Effects) کا سلسلہ ہرامر میں طبعی طور پر قوانین قدرت کے تحت موجود ہوتا ہے ایسے ہی اس امر کے لئے ایک روحانی واسطہ یا باعث بھی