مکتوب آسٹریلیا — Page 265
265 ٹیڑھی سوچ کا نتیجہ خبر آئی ہے کہ آسٹریلیا میں ایسے بچوں کی تعداد میں دھما کہ خیز اضافہ ہو گیا ہے جو بن بیاہی ماؤں کے ہاں پیدا ہوتے ہیں۔گزشتہ دس سالوں میں شادی کے بندھن کے باہر پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد میں ۷۰ فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔کل نومولود بچوں میں سے ۲۷ فیصد بن بیاہی ماؤں کے بطن سے جنم لیتے ہیں۔( سڈنی ہیرلڈ ۴ فروری ۱۹۹۸ء) ایک دوسری خبر یہ ہے کہ نیو ساؤتھ ویلز کی پولیس کے کمشنر نے اپنے ہم جنس پرست (Homosexual) پولیس افسروں کو ہم جنس پرستوں کے حالیہ میلہ (Mardi Gras) میں وردی سمیت شامل ہونے کی اجازت دے دی ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ چونکہ قوم نے ہم جنس پرستی کو ایک جائز بنیادی حق کے طور پر تسلیم کر لیا ہے اس لئے ایسا رجحان رکھنے والے افسروں کو میلے میں شمولیت سے روکنا ان کو ان کے حق سے محروم کرنے کے مترادف ہوتا۔جنسی بے راہ دری ، ڈرگ کا استعمال، جو اشراب وغیرہ اور ان سے متعلقہ جرائم کی خبریں اس کثرت سے آتی ہیں کہ بلاشبہ مادہ پرستی نے مذہبی اقدار پر ایسا بھر پور حملہ کر دیا ہے جس کی تاریخ عالم میں مثال نہیں ملتی۔نفس امارہ کی کارستانیوں کا یہ سیلاب ایسے ہی پیدا نہیں ہو گیا بلکہ ان رجحانات کو فروغ دینے میں ایک مخصوص فلسفہ، طرز فکر اور کلچر کا ہاتھ ہے۔شروع میں تو اس فلسفہ کو مغربی ملکوں کے دانشوروں،