مکتوب آسٹریلیا — Page 254
254 (Interpretation) بالکل ممکن ہے۔وہ جدید طریق جس سے اندازہ لگایا گیا ہے وہ Optically Stimulated Luminescence کی ایک ترقی یافتہ صورت ہے جس کو خاص طور پر اس تحقیق کے لئے Refine کیا گیا تھا۔اس طریق سے موقع پر پائی جانے والی ریت (Quartz Sand) سے جو نمونے حاصل کئے گئے تھے ان کے ایک ایک ذرہ کی عمر علیحدہ علیحدہ معلوم کی گئی تھی۔ابھی ایک مزید تحقیق ہونا باقی ہے ان نشانات کے اوپر ایک ہلکی سی تہ کاربن کی بھی ہے۔ریڈیو کار بن طریق سے ان کی عمر نکال کر مزید توثیق کی جائے گی۔سڈنی مارننگ ہیرلڈ ۲۳ دسمبر ۱۹۹۷ء) جس ریڈیو کاربن ڈیٹنگ (Radio Carbon Dating) کا خبر میں ذکر کیا گیا ہے وہ عمر معلوم کرنے کا ایسا طریق ہے جس کو امریکہ کے ایک سائنس دان willard F۔Libby نے ۱۹۴۰ء کی دہائی میں ایجاد کیا تھا۔انہوں نے معلوم کیا کہ ہر جگہ کار بن بکھرا پڑا ہے اور اس میں ایک تھوڑا سا جزو ایسے کاربن ایٹم کا بھی پایا جاتا ہے جو Radio Active ہوتا ہے۔اسے 14 Carbon کہتے ہیں اور اس میں سے تابکاری یاریڈیائی شعائیں خارج ہوتی ہیں ( جس طرح ایٹم بم سے خارج ہوتی ہیں ) ان شعاؤں کے اخراج کی رفتار ہمیشہ یکساں رہتی ہے۔اور انہیں ایک آلہ کی مدد سے ماپا جاسکتا ہے۔یہ کار بن ۱۴ کا ایسا انحطاط ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ماہیت تبدیل ہوتی جاتی ہے۔یہاں تک کہ ۵۷۰۰ سالوں میں کار بن ۱۴ کے ذرات آدھے رہ جاتے ہیں۔اسی طرح ۱۴۰۰ سالوں میں چوتھا حصہ۔۲۲۸۰۰ سالوں میں آٹھواں حصہ اور ۶۰۰ ۴۵ سالوں میں صرف سولہواں حصہ باقی رہ جاتا ہے۔چونکہ پچاس ہزار سال کے بعد یہ مقدار بہت کم رہ جاتی ہے۔اس لئے یہ طریق قابل اعتبار نہیں رہتا۔اور زیادہ پرانی اشیاء کے لئے ان کی عمر معلوم کرنے کے لئے دوسرے طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ ہم سب میں ریڈیو کاربن موجود ہوتی ہے۔ایسے ہی تمام حیوانوں اور درختوں پودوں وغیرہ میں بھی لیکن جب تک وہ زندہ ہوتے ہیں وہ ہوا اور غذا کے ذریعہ اس کمی کو پورا کرتے رہتے ہیں۔لیکن مرنے کے بعد جب غذا اور سانس کا سلسلہ بند ہوجاتا ہے تو اس کی کمی کو