مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 229 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 229

229 سمندر کی تہہ میں معدنیات امریکی سائنسی ادارہ AAAS کے ۱۹۹۷ء کے اجلاس میں بتایا گیا کہ مستقبل میں سطح سمندر کے نیچے ابلنے والے آتش فشاں پہاڑوں سے معدنیات حاصل کی جائیں گی لیکن چونکہ وہ کوئی تین کلومیٹر زیر زمین ہیں اس لئے وہاں تک پہنچنا خاصہ مہنگا پڑے گا۔اس لئے ان کے نکالنے کی باری تب آئے گی جب زمین کی کانیں خالی ہو جائیں گی یا وہاں سے نکالنا بہت زیادہ مہنگا ہو جائے گا۔نیویارک سٹیٹ کی Rutgers University کی Dr Richard Lutz نے بتایا کہ سمندر کی تہ سے نیچے جو آتش فشاں پہاڑ ہیں وہ چمنیوں کی شکل میں گیسیں اور پگھلی ہوئی قیمتی دھاتیں اگل رہے ہیں جیسے سونا، چاندی، تانبہ اور سکہ وغیرہ۔نیز یہ بھی پتہ چلا ہے کہ لاوے کے راستوں کے اردگرد ایسی جاندار مخلوق پھولتی پھلتی ہے جو سخت گرم ماحول، گندھک اور تاریکی کو پسند کرتی ہے۔( سڈنی ہیرلڈ ۱۸ فروری ۱۹۹۸ء) قرآن مجید میں پیشگوئی تھی کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب زمین اپنے خزانے باہر نکال پھینکے گی (الزلزال ۳) جس طرح آج زیر زمین سے پٹرولیم اور معدنیات نکالی جارہی ہیں۔ایسا تاریخ میں پہلے کب ہوا تھا اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا دوسرا دور وہ ہوگا جب خشکی کے بعد سمندر کے نیچے سے بھی مدفون خزائن باہر نکالے جائیں گے۔ایک لحاظ سے اس کا بھی آغاز ہو چکا ہے اور سمندر کے نیچے سے پڑولیم نکالا جارہا ہے۔(الفضل انٹر نیشنل 12۔6۔98)