مکتوب آسٹریلیا — Page 14
14 ذوق و شوق کی ترقی میں دماغ کا حصہ سان ڈیاگو کے محکمہ صحت کے ایک حالیہ تجربہ سے ثابت ہوا ہے کہ ہر وہ کام جو انسان ذوق وشوق سے کرتا ہے وہ انسانی دماغ پر ایک نقش پیدا کرتا ہے یعنی اس کے کام سے متعلقہ حصہ کے خلیات (Brain cells) پر بجلی کی طرح کے کنکشن یا سرکٹ بن جاتے ہیں۔ایک ہی کام بار بار کرنے سے وہ نقش گہرے اور پختہ ہوتے جاتے ہیں۔لیکن اگر وہ کام کرنے چھوڑ دیئے جائیں تو وہ نقوش مدھم پڑتے پڑتے بے اثر ہو جاتے ہیں۔تجربہ میں دیکھا گیا کہ جب انسان کے سامنے ایسی چیز آتی ہے جس سے ان کاموں کی یادیں وابستہ ہوں۔تو متعلقہ سرکٹ روشن اور فعال ہوکر اسی قسم کا احساس ذہن میں پیدا کر دیتے ہیں۔دماغ میں ایک حصہ روحانی امور کے لئے بھی ہے جسے G-Spot کا نام دیا گیا ہے۔مذکورہ بالا تجربہ ایک سکول کے تمہیں طلباء پر MRI کی مدد سے کیا گیا جس کے ذریعہ دماغ کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ کام کے دوران اس کا کونسا حصہ سر گرم عمل ہوتا ہے۔ان لڑکوں میں سے آدھی تعداد ان کی تھی جو شراب پینے کے عادی تھے اور دوسرے وہ تھے جنہوں نے کبھی ایک آدھ بار کے سوا شراب نہ پی تھی۔ان سب لڑکوں کو شراب کی مختلف قسموں کے اشتہار دکھائے گئے۔شرابیوں کے ذہن اشتہار کے دیکھتے ہی یوں روشن اور بیدار ہو گئے جس طرح گوشت دیکھ کر بلی کے منہ میں پانی آجاتا ہے جب کہ دوسروں پر ان نظاروں کا کوئی اثر نہ تھا۔ان کا وہی حال تھا جیسے گائے بکری کے سامنے