مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 136 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 136

136 بھی سب سے پہلے اس کے جو پتے نکلے وہ عجیب شکل کے بالکل چیپٹے اور زرد سے تھے۔البتہ بعد میں جو پتے نکلے وہ بالکل نارمل عام کھجور کے پتوں جیسے تھے۔یہ پودا اب ایک فٹ اونچا ہو گیا ہے لیکن ابھی یہ پتہ نہیں کہ بڑا ہو کر یہ نر نکلتا ہے یا مادہ۔اگر نر نکلا تو اس سے کھجور میں حاصل کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔لیکن کھجور کا یہ پودا اگر مادہ بھی ہوا تو ۳۰ برس کے بعد اس کو کھجور میں لگیں گی کیونکہ جو طبعا دیر سے جوان ہوتا ہے اس کی عمر بھی اسی حساب سے لمبی ہوتی ہے۔چنانچہ اس قسم کی کھجور کی عمر دوسوسال ہوتی ہے۔(ماخوذ سڈنی مارٹنگ ہیرلڈ ۱۳ جون ۲۰۰۵ء) انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسی علیہ السلام کی پیدائش گرمیوں کے موسم میں ہوئی تھی۔جب گڈریے اپنے ریوڑ کو کھلے آسمان تلے کھیتوں میں رکھتے تھے اور رات بھر ان کی نگرانی کرتے تھے (لوقا: ۷۸) قرآن کریم کے مطابق بھی وہ کھجوروں کے پکنے کا موسم تھا۔یعنی گرمیوں کا۔اگر وہ ۲۵ دسمبر کا دن ہوتا تو اتنی شدید سردی میں کھلے آسمان تلے کھیتوں میں ریوڑ کی نگرانی کے لئے پاس رہنے کا سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔بہت اللحم کا شہر ۲۳۵۰ فٹ بلند چٹان پر واقعہ تھا۔جس کے اردگرد چشموں والی سرسبز وادیاں تھیں۔ڈھلوان پر کھجوریں اگی ہوئی تھیں جن کا پھل چٹان پر کھڑے ہوکر تو ڑا جاسکتا تھا۔عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے وقت کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم فرماتا ہے: پس اسے اس کا حمل ہو گیا اور وہ اسے لئے ہوئے ایک دور کی جگہ کی طرف ہٹ گئی۔پھر در دزہ اسے کھجور کے تنے کی طرف لے گیا۔اس نے کہا اے کاش! میں اس سے پہلے مرجاتی اور بھولی بسری ہو چکی ہوتی تب (ایک پکارنے والے نے ) اسے اس کی زیر میں طرف سے پکارا کہ کوئی غم نہ کر تیرے رب نے تیرے نشیب میں ایک چشمہ جاری کر دیا ہے اور کھجور کی ساق کو تو اپنی سمت جنبش دے وہ تجھ پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرائے گی۔پس تو کھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر اور اگر تو کسی شخص کو دیکھے تو کہہ دے کہ یقیناً میں نے رحمان کے لئے روزے کی منت مانی ہوئی ہے پس آج میں کسی انسان سے گفتگو نہیں کروں گی (مریم: ۲۳-۲۷)