مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 135 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 135

135 حضرت مریم کے زمانہ کی کھجور میں دوبارہ اگانے کی کوشش اسرائیل کے ڈاکٹرز اور سائنسدان کھجور کی ایک ایسی گٹھلی سے پودہ اگانے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو دو ہزار سال پہلے بیت اہم ( فلسطین) میں بکثرت ہوتی تھی لیکن اب نا پید ہو چکی ہے۔اس گٹھلی کا نام میتھو صلاح (Methuselah) رکھا گیا ہے۔بہت اہلحم کا قصبہ (Bareham) وہی ہے جہاں حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تھی جو یروشلم کے مضافات میں اور حضرت مریم کے شہر ناصرہ (Nazareth) سے قریباً سو میل جنوب میں واقع ہے۔بحیرہ مردار (Dead Sea) بھی اس سے کوئی چند میل ہی دور تھا۔اس علاقہ میں واقع ایک ٹیلے کی کھدائی کے دوران تین گٹھلیاں ملی تھیں۔اس جگہ کا نام Masada ہے۔محققین پتہ لگانا چاہتے ہیں کہ یہودا علاقہ (Judea) کی اصل کھجور میں وہ کیا خصوصیات پائی جاتی تھیں جنکی بناء پر بائبل اور قرآن میں اس کے سایہ۔غذائیت۔خوبصورتی اور طبی فوائد کی بہت تعریف کی گئی ہے۔صلیبی جنگجوؤں نے کھجوروں کے سبھی درختوں کو کاٹ کر اس کی نسل کو مٹا دیا تھا۔ریڈیو کاربن ٹیسٹ سے اس گٹھلی کی عمر ۳۵ قبل مسیح تا ۶۵ عیسوی معلوم ہوئی ہے۔اتنے پرانے بیج سے پودا اگانا بہت مشکل ہوتا ہے۔اگر آگ بھی جائے تو جلدی ہی مرجھا کر مر جاتا ہے۔اس لئے اس گٹھلی کی اگنے کی قوت بحال کرنے کے لئے بہت جتن کئے گئے ہیں۔کئی قسم کے محلولات میں رکھ کر قرنطینہ (Quarantine) میں اسے اگایا گیا ہے۔پھر