مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 125 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 125

125 شوگر لیول حد سے نیچے نہ گر جائے۔یہ تجربات فی الحال چوہوں پر کئے گئے ہیں اس لئے ماہرین انہیں انسانوں پر منطبق کرے میں احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔(ماخوذ از رپورٹ Jerome Burne دی گارڈین۔بحوالہ سڈنی ہیرلڈ ۶ جون ۱۹۹۶ء) اگر مزید تحقیق کے نتیجہ میں یہ باتیں انسانوں پر بھی صادق آجائیں تو اس سے وقت کے ساتھ ساتھ انسانی سوچ اور سماجی مسائل میں کئی دور رس تبدیلیاں پیدا ہونگی۔یہ خیال کہ بچہ کے لئے تخم صرف نر مہیا کرتا ہے اور مادہ صرف بطور زمین یا کھیتی کے ہوتی ہے غلط ثابت ہو جائے گا کیونکہ تم یا بیچ نرومادہ دونوں کے پانی کے خلط ملط سے پیدا ہوتا ہے اور مادہ کا یہ کردار کہ وہ بطور قطعہ زمین کے پودے کو بڑھنے کے لئے قوت فراہم کرتی ہے ایک ضروری مگر زائد فعل کے طور پر ہے۔قرآن کریم نے انسانی تخلیق میں عورت کے ان دونوں کرداروں کا ذکر فرمایا ہے۔ایک جگہ فرمایا نِسَانُكُمُ حَرْثٌ لَّكُمْ (البقرہ:۲۲۴) یعنی تمہاری بیویاں تمہارے لئے (ایک قسم کی کھیتی ہیں۔اور دوسری جگہ فرمایا " إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشَاجِ ، (الدھر:۳۰) یعنی ہم نے انسان کو ایسے نطفہ سے پیدا کیا ہے جو ملا جلا ہے۔اس میں ایک ایسے نطفہ کا ذکر ہے جو نر و مادہ دونوں کے پانیوں کے اختلاط سے وجود میں آتا ہے صرف مرد کا نطفہ مراد نہیں۔مسیج عربی میں دو چیزوں یا رنگوں کے باہم ملنے کو کہتے ہیں۔اور امشاج اس کی جمع ہے۔اس لحاظ سے یہ تحقیق کہ ماں باپ دونوں ہونے والے بچہ کو تئیس تمیس کروموسوم مہیا کرتے ہیں اور دونوں کے جینز مل کر بچہ کی تخلیق کا باعث بنتے ہیں نہ صرف قرآن کے مطابق ہے بلکہ قرآن کریم کا ایک علمی اعجاز ہے۔اس تحقیق سے ذات برادری کے مسئلہ پر بھی دلچسپ روشنی پڑتی ہے۔اور اس سے ایک نئی سوچ ابھرتی ہے۔وہ یہ کہ اگر بچہ میں ماں باپ دونوں کی طرف سے برابر کروموسوم اور جینز آتے ہیں اور اس میں باپ کا پلڑہ ماں سے بھاری نہیں تو ذات برادری صرف باپ کی طرف سے کیوں چلے ، ماں کی طرف سے کیوں نہیں۔ویسے اس طرح کی سوچ مغربی آسٹریلیا میں پہلے ہی پیدا ہو چکی ہے۔میں نے جب بھی کسی سے پوچھا کہ آپ کے آباؤ اجداد کس ملک سے آکر آسٹریلیا میں آباد ہوئے تھے تو اگر چہ میرے ذہن میں صرف باپ دادے کا اصل وطن پوچھنا ہی مقصود ہوتا تھا مگر مجھے ہمیشہ اس