مکتوب آسٹریلیا — Page 124
124 کوئی دس سال تک جینز کے ماہرین کا خیال تھا کہ جینز بس جینز ہی ہوتے ہیں ان میں نرو مادہ کی تخصیص نہیں ہوتی لہذا وہ خواہ باپ کی طرف سے ہوں یا ماں کی طرف سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔لیکن یہ تصور اب باقی نہیں رہا۔جینز میں بھی نرومادہ کی تخصیص ہوتی ہے۔اور ہر ایک کا جسم کی تخلیق میں ایک طے شدہ حصہ ہوتا ہے۔یہ بات پہلے کیمبرج یونیورسٹی کے ڈاکٹر عظیم سورانی نے دریافت کی تھی۔اور پھر دوسرے سائنس دانوں نے اس کی توثیق کی۔ڈاکٹر عظیم سورانی نے اپنے تجربات دودھ پلانے والے جانوروں (Mammals) پر کئے۔انہوں نے ایک انڈہ (Egg) مادہ کا لیا اور اس میں سے DNA حاصل کر کے اس میں سپرم سیلز (Sperm Cells) کے دو DNA ملائے لیکن باوجود یکہ جینز کا باہمی تناسب معمول کے مطابق تھا کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔پھر ڈاکٹر صاحب نے دو انڈوں کے DNA ایک ایسے انڈے میں داخل کئے جس کا اپنا DNA نکالا ہوا تھا۔لیکن تب بھی بچہ نہ بنا۔جس سے یہ ثابت ہوا کہ ہر چیز کا باہمی تناسب اور تعداد وغیرہ درست ہونا ہی کافی نہیں بلکہ ان کا نصف نر سے اور نصف مادہ سے آنا بھی ضروری ہوتا ہے۔بچہ کی نشو و نما کے دوران ایسے مراحل آتے ہیں کہ ان کا آغاز کرنے کے لئے کبھی باپ کے جینز کی ضرورت پڑتی ہے اور کبھی ماں کے جینز کی۔سائنس دان سمجھتے ہیں کہ اس تحقیق نے عورتوں کا پلہ مردوں سے بھاری کر دیا ہے اور آج وہ فخر سے یہ کہہ سکتی ہیں کہ بچہ کی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں اور استعدادوں میں ماں کے جیز کا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا باپ کا۔چنانچہ بچہ ایک ایسے نطفہ سے پیدا ہوتا ہے جو ماں باپ کے پانی کے امتزاج سے بنتا ہے گویاوہ ایک ایسا بیج ہے جود و بیجوں کے ملنے جلنے سے وجود میں آتا ہے اور ماں کا زائد کام یہ ہوتا ہے کہ وہ بطور اس زمین یا کھیتی کے بھی کام کرتی ہے جس میں وہ ملا جلا بیج اگتا ہے۔ریسر چر کہتے ہیں کہ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ بچہ جس نالی کے ذریعہ اپنی ماں سے غذائیت اور آکسیجن حاصل کرتا ہے (Placenta) وہ باپ کے جینز سے نشو ونما پاتی ہے۔نر سے آنے والے جینز جارح (Aggressive) ہوتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ چھینا جھپٹی کر کے بچہ کے لئے جتنی غذا حاصل کرنی ممکن ہے وہ حاصل کر لی جائے۔اس کے بالمقابل مادہ کے جینز میں صبر اور برداشت کا مادہ ہوتا ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ نر جینز کی حرص کو حد اعتدال میں رکھیں تاماں کا