مکتوب آسٹریلیا — Page 123
123 بچے کے وجود کی تعمیر میں ماں باپ دونوں کا حصہ برابر ہوتا ہے بچہ پیدا ہوا تو گھر کی عورتوں نے اسے گھیر لیا اور اس کے ناک نقشہ پر تبصرے ہونے لگے۔ایک نے کہا اس کی آنکھیں باپ کی ہیں۔دوسری نے کہا اس کا ناک ماں کا ہے۔تیسری بولی ماتھا بالکل دادی کا ہے۔چوتھی نے کہا ٹھوڑی بالکل ماموں کی ہے وغیرہ وغیرہ۔ایک عورت جو ذرا ہٹ کر بیٹھی ہوئی تھی پکاری کہ اس غریب کا اپنا بھی کچھ ہے یا سب کچھ مانگا تا نگا ہی ہے۔یہ لطیفہ عام سوچ کے مطابق ہے۔عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ بچہ جینز (Genes) کا ایک سیٹ باپ سے لیتا ہے اور ایک سیٹ ماں سے اور پھر وہ دونوں آپس میں یوں گڈمڈ ہو جاتے ہیں کہ محض اتفاق سے وہ بعض کیریکٹر یا بناوٹ باپ کی طرف سے لیتا ہے اور بعض ماں کی طرف سے مثلاً جیسے یہ کہا جائے کہ بچہ نے حس مزاح ماں سے لی ہے اور پیشہ کا رجحان باپ ہے۔لیکن نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ حض اتفاق نہیں کہ بعض کیریکٹر باپ سے آتے ہیں اور بعض ماں کی طرف سے بلکہ انسانی وجود کے مخصوص اور معلوم حصے ہیں جو باپ یا ماں کی طرف سے بچہ کو ورثہ میں ملتے ہیں۔مثلاً دماغ کا وہ حصہ جو ہمارے جذبات کو کنٹرول کرتا ہے وہ باپ کے جینز سے بنتا ہے اور دماغ کا وہ حصہ جس کا تعلق قوت فیصلہ اور ذہانت سے ہے وہ ماں کی طرف سے آتا ہے۔