مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 4 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 4

4 بھی ہوں کہ مامور کی زندگی میں پوری نہ ہوں اور کسی دوسرے کے ہاتھ۔جو اس کے متبعین میں سے ہو پوری ہو جائیں۔“ نیز فرمایا: سے ( ملفوظات جلد ۶ صفحه ۲۰۲ حاشیه ) اصل بات یہی ہے جس کو میں نے بارہا بیان کیا ہے کہ پیشگوئیوں کا بہت بڑا حصہ مجازات اور استعارات کا ہوتا ہے اور کچھ حصہ ظاہری رنگ میں بھی پورا ہو جاتا ہے یہی ہمیشہ سے قانون چلا آتا ہے اس سے ہم انکار تو نہیں کر سکتے خواہ کوئی مانے یا نہ مانے۔“ ( ملفوظات جلد ۴ صفحه ۳۳) حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیشگوئیوں کا ایک اصل یہ بیان فرماتے ہیں کہ پیشگوئیوں کی حقیقت اپنے وقت پر اس وقت کھلتی ہے جب واقعات کی رو سے وہ صحیح ثابت ہو جائیں۔چنانچہ فرماتے ہیں:۔اور باتوں کو جانے دو۔واقعات بھی تو کچھ چیز ہیں۔متشابہات کی بحث میں نہ پڑو۔مگر یہ تو مانناہی پڑے گا کہ پیشگوئیوں کے وہ معنے ہوتے ہیں جو واقعات کی رو سے صحیح ثابت ہو جائیں۔‘“ 66 ( ملفوظات جلد ۳ صفحه ۴۵۱) اسی طرح فرمایا: بات یہ ہے کہ بہت سی باتیں پیشگوئیوں کے طور پر نبیوں کی معرفت لوگوں کو پہنچی ہیں اور جب تک وہ اپنے وقت پر ظاہر نہ ہوں ان کی بابت کوئی یقینی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔لیکن جب ان کا ظہور ہوتا ہے اور حقیقت کھلتی ہے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس پیشگوئی کا یہ مفہوم اور منشاء تھا اور جو شخص اس کا مصداق ہو یا جس کے حق میں ہو اس کو اس کا علم دیا جاتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد ۴ صفحه ۲۸)