مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 3 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 3

3 سچائی پر ایک نیا یقین پیدا ہوتا ہے۔پیارے آقا حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ کا خطبہ جمعہ فرموده ۱۲؍ دسمبر ۱۹۹۷ ء ایم ٹی اے پر دوبارہ سننے پر بہت حیرت و مسرت ہوئی کہ اس میں حضرت مرزا مسرور احمد ایدہ اللہ تعالیٰ کی خلافت کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں واضح اشارے ملتے ہیں جن کی طرف پہلے ہمارا دھیان نہیں گیا تھا۔ان کا تذکرہ اس لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت جس طرح سے پیشگوئی دلاتی ہے ایسا کوئی اور سچا علم نہیں۔معرفت کو زیادہ کرنے کا صرف یہی ایک طریق ہے۔“ ( ملفوظات جلد ۵ صفحه ۱۳۶) نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ایمان عرفان کیسے ہوتا ہے: یہ پیشگوئیاں جو ہیں یہ ایمان کو قوی کر کے عرفان بنادیتی ہیں۔نری باتوں سے ایمان قوی نہیں ہوسکتا جب تک اس میں قوت کی شعاعیں نہ پڑیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے ان نشانات سے پیدا ہوتی ہیں۔پس ان پیشگوئیوں کو خوب کان کھول کر سننا چاہئے۔دوسرے وقت جب یہ پوری ہوتی ہیں تو ایمان کی تقویت کا باعث ہوکر اس کو عرفان بنادیتی ہیں۔اس لئے جو امر پیشگوئی پر مشتمل ہو میں اس کو ضرور سنا دیا کرتا ہوں اور میری غرض اس سے یہی ہوتی ہے۔یہ ایک نور بخشتی ہیں اور جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور نازل نہ ہوانسان غلطی میں پڑا رہتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد ۴ صفحه ۳۵۱-۳۵۲) اللہ تعالیٰ کے ہر قول و فعل کے کئی کئی بطن ہوتے ہیں۔ان میں تہ بہ تہ علوم ومعارف پوشیدہ ہوتے ہیں اس لئے پیشگوئیاں کئی کئی رنگ میں پوری ہوتی رہتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ پیشگویوں میں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ تمام باتیں ایک ہی وقت میں پوری ہو جائیں بلکہ تدریجا پوری ہوتی رہتی ہیں اور ممکن ہے کہ بعض باتیں ایسی