مکتوب آسٹریلیا — Page 436
436 ساتھ منطبق نہیں ہوتا تھا۔47 قبل مسیح میں جولیس سیزر (Julius Caeser) نے اس سال کو ۴۴۵ دن کا قرار دے کر اس فرق کو دور کیا۔لیکن ۷۶ ۵ عیسوی ( یعنی آنحضرت ﷺ کی پیدائش کے چھ سال بعد ) اس وقت کی رومن حکومت نے موسم بہار میں جب دن رات برابرا ہوتے ہیں یعنی ۲۱ / مارچ سے سال کا آغاز قرار دے دیا۔سیزر کے کیلنڈر میں ایک اور غلطی تھی۔اس کا کیلنڈر کا سال سمسی سال کے مقابلہ میں ۱۸ گھنٹے اور ۳۲ منٹ زیادہ لمبا تھا۔اس غلطی کی اصلاح ۱۵۸۲ء میں پوپ گریگوری (XIII) نے کی اور ۴ راکتو بر۱۵۸۲ء بروز جمعرات کے بعد جمعہ کے روز کو۱/۱۵اکتو بر قرار دے دیا۔نیز اس نے دیکھا کہ سال ۲۵۔۳۶۵ دن کا ہوتا ہے اور چار سال بعد ایک دن زائد ہو جاتا ہے اس لئے لیپ کا سال ۳۶۶ دن کا کر دیا۔یہی گریگورین کیلنڈر آج دنیا استعمال کرتی ہے۔اس سال ۲۶ / دسمبر ۲۰۰۴ء کو بارہ ممالک پر قیامت گزرگئی۔شدید زلزلہ اور سمندری طوفان (Tsunami) کی وجہ سے ڈیڑھ لاکھ سے زائد انسان لقمہ اجل بن گئے۔کئی ممالک نے نئے سال کی تقریبات منسوخ کر دیں اور ان پر اٹھنے والا خرچ سیلاب زدگان کو دے دیا۔سڈنی میں گو تقریبات منسوخ تو نہیں کی گئیں البتہ آتش بازی کے بعد ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔گویا رند کے رندر ہے اور ہاتھ سے جنت نہ گئی۔مومن چونکہ کوئی دعا کا موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اس لئے وہ معروف سال کا آغاز بھی دعاؤں ہی سے کرتا ہے۔ورنہ وہ تو ہر روز خدا سے عرض کرتا ہے : ہر دن چڑھے مبارک ہر شب بخیر گزرے۔( الفضل انٹر نیشنل 14۔1۔2005)