مکتوب آسٹریلیا — Page 435
435 عیسوی سال کا آغاز آج کل عملاً ساری دنیاسن عیسوی کو ہی استعمال کرتی ہے اگر چہ پہلے وقتوں میں قوموں کے اپنے اپنے سال ہوتے تھے۔مثلاً مصریوں ، ہندوستانیوں ، چینیوں ، ایرانیوں ، وغیرہ کے اپنے اپنے سال مقرر تھے۔عرب چاند کے مہینوں کو استعمال کرتے تھے ، رومن اپنا سال یکم جنوری سے شروع کرتے تھے۔در اصل سال ایک گول دائرہ کی طرح ہے اس لئے اس کا آغاز سال کے کسی بھی دن سے کیا جاسکتا ہے۔اس لئے موسم کی تبدیلی پر اس کی بنیاد رکھی گئی۔ورنہ دراصل تو سورج کے سال کا آغاز اس دن سے ہونا چاہئے تھا جس روز ۴۶۰۰ ملین سال پہلے زمین سورج سے علیحدہ ہو کر اپنے محور پر جھکی اور کشش ثقل (Gravity) کے زیر اثر اس نے سورج کے گردا اپنے مدار پر گھومنا شروع کیا تھا۔اس وقت زمین پر کوئی مخلوق نہ بستی تھی۔ظاہر ہے ہزاروں درجے سنٹی گریڈ گرم آگ کے گولہ پر کون رہ سکتا تھا لیکن بفرض محال اگر اس وقت کوئی وجود زمین پر ہوتا اور سورج کو پہلی بار زمین پر طلوع ہوتے دیکھتا تو وہی دن سال کا پہلا دن ہوتا۔لہذا سال کے آغاز کا فیصلہ ہر قوم کی اپنی مرضی پر منحصر تھا جس طرح کسی نے چاہا کر لیا۔اس لئے یکم جنوری کو کوئی مخصوص حیثیت دینے کی وجہ سمجھ نہیں آئی۔باقی دن بھی اسی خدا کے بنائے ہوئے ہیں اور نظریاتی طور پر کسی بھی دن سے سال کا آغاز سمجھا جاسکتا ہے۔رومنوں نے ۱۵۳ اقبل مسیح میں یکم جنوری سے سال کا آغاز کیا لیکن ان کا کیلنڈر موسموں کے