مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 434 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 434

434 ایک پادریوں کو شادی کرنے کی اجازت دینا ہے۔جب تک ویٹیکن (vatican) اس مسئلہ کی طرف اپنی توجہ مبذول نہیں کرے گی پادریوں کی تعداد مسلسل گرتی جائے گی اور بالآ خر کیتھولک مذہب ہی نا پید ہو جائے گا۔“ ایک اور صاحب S۔E۔P۔Keogh لکھتے ہیں:۔کیتھولک چرچ میں مجتر درہنے کی شرط در اصل عورتوں کے خلاف اس تعصب کا نتیجہ ہے جو زمانہ وسطی میں ان کے خلاف پایا جاتا تھا اور جس کے متعلق کوئی حکم قدیم اولین چرچ میں نہیں۔ہمیں پتہ ہے کہ پطرس (Peter) شادی شدہ تھے۔(متی باب ۸ آیت ۱۴) اس لئے جس طرح سب سے پہلے پوپ کا شادی شدہ ہونا درست تھا۔اسی طرح ان کے جانشینوں اور دوسرے پادریوں کے لئے بھی درست ہے۔زمانہ وسطیٰ کے پوپ عورتوں کے بارہ میں عجیب پر اسرار خیالات رکھتے تھے۔ان کے نزدیک عورتوں کی دو ہی قسمیں تھیں یا تو وہ زنا کا رطوائفیں تھیں یا بے داغ معصوم۔سینٹ میری مگد لینی کو خطرناک طور پر بدنام کر کے پہلی قسم کے نمونہ کے طور پر پیش کیا جاتا تھا اور دوسری قسم کی مثال سینٹ میری (حضرت مریم ) کی اندھی عقیدت کے ساتھ بیان کی جاتی تھی۔یہ خوش آئندہ بات ہے کہ تاریک ماضی کی ان یادگاروں کو ختم کرنے کے لئے آسٹریلیا کے کیتھولک پادریوں نے علم بغاوت بلند کیا ہے۔سڈنی مارننگ ہیرلڈا اپنے ۲۸ جنوری ۲۰۰۵ء کے ادارتی کالم میں پادریوں کے مطالبہ کی حمایت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ آج ۱۵ فیصد سے بھی کم لوگ چرچ جاتے ہیں اور پادری ہیں کہ اپنے مذہبی اداروں کو چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں اور نئے لوگ ان کی جگہ لینے کے لئے آگے نہیں آرہے۔۔۔۔یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ کیتھولک پادری ہمیشہ ہی تجرد کی زندگی نہیں گزارتے رہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ابتدائی پوپ شادی شدہ ہوتے تھے۔بعضوں کے بچے بھی تھے جو بعد میں پوپ نے اندازہ ہے کہ ۲۰ سال کے عرصہ میں کیتھولک چرچ کے پاس رسمی دعا کی قیادت کے لئے جتنے پادری چاہئیں ان کا صرف چھٹا حصہ رہ جائے گا۔(الفضل انٹر نیشنل 11۔2۔2005)