مکتوب آسٹریلیا — Page 409
409 چادر کے مختلف حصوں سے لئے وہ یکساں نہ تھے۔حرارت کی وجہ سے جو کیمیائی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں ان کی سائنس یعنی Chemical Kinetics پھر کیمیائی تجزیہ اور دوسرے تجربات سے یہ بات پایہ ثبوت پہنچ گئی ہے کہ ریڈیو کاربن ٹیسٹ جس نمونہ پر کئے گئے تھے وہ اصل کپڑے کا حصہ نہ تھا اور اس لئے کپڑے کی عمر معلوم کرنے کے لئے اس کا استعمال جائز یا قانونی نہ تھا۔ان کے الفاظ ہیں: "Chemical kinetics, analytical chemistry and other tests proved the,, radio carbon sample was not part of the original cloth,, and so was,, Invalid in detetmining the age of the shroud۔" (the Telegraph London-Reproduced by Sydney Morning Herald dated 29۔30January 2005) اس حقیقت پر پردہ ڈالنے کی مسلسل کوشش کی جارہی ہے کہ یہ چادر وہی ہے جس میں واقعہ، صلیب کے بعد مرہم لگا کر عیسی علیہ السلام کو لپیٹا گیا تھا۔خون بہنے کے نشانات واضح کرتے ہیں کہ ایک زندہ انسان کو اس میں لپیٹا گیا ہے۔اگر یہ ثابت ہو جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر مرنے سے بچ گئے تھے تو صلیبی مذہب کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔لیکن یہ مقدر ہے کہ اس زمانہ میں ایسے ثبوت مہیا ہوں تو آنحضرت ﷺ کی یہ پیشگوئی پوری ہو کہ مسیح موعود کے ہاتھوں اس کے زمانہ میں کسر صلیب ہوگا۔چنانچہ مکتوب اسکندریہ، صحائف قمران اور کفن مسیح پر یہ جدید تحقیق، قبر مسیح کا انکشاف، تاریخی ، مذہبی اور طب کی کتب جو اس زمانہ میں دریافت ہورہی ہیں اسی پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے خدائی تقدیر کا حصہ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون کو اپنی کتاب ”سیح ہندوستان میں“ میں یوں بیان فرمایا ہے : پس اس جگہ ہم بجز ا سکے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ خدا کا ارادہ تھا کہ وہ چمکتا ہوا حربہ اور وہ حقیقت نما برہان کہ جو صلیبی اعتقاد کا خاتمہ کر سکے اس کی