مکتوب آسٹریلیا — Page 408
408 صلیب کے بعد یسوع کے چہرہ کا عکس ہے جو معجزانہ طور پر اس پر محفوظ رہ گیا ہے۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی لاس الاموس لیبارٹری (Los Alamas Laboratory) سے منسلک مسٹر ریمنڈ رو جز ( Raymond Rogers) کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ۸۸۹۱ء کے تجربات کے نتائج غلط (Invalid) تھے۔ان کا استدلال ہے کہ جس سوتی کپڑے پر ٹیسٹ کئے گئے تھے وہ اصل کفن کی بجائے اس کے مرمت شدہ حصہ سے حاصل کیا گیا تھا۔ان کے اپنے ٹیسٹ جو زیادہ تر کپڑے کے کیمیائی تجزیہ پرمبنی تھے بقول ان کے اصل کپڑے سے حاصل کردہ حصوں پر تھے اور ان کی عمر ( بجائے سات سوسال کے ) ۱۳۰۰ء تا ۳۰۰۰ ء سال منکشف ہوئی تھی۔بہت سے کیتھولک یقین رکھتے ہیں کہ کپڑے پر جو عکس ہے وہ یسوع کا ہے اور اس وقت کا جب انہیں صلیب سے اتارنے کے بعد اس میں لپیٹا گیا تھا۔و محققین جنہوں نے ۰۸۹۱ء کی دہائی میں الگ الگ طور پر اریزونا، کیمبرج اور زیورچ میں اس پر تجربات کئے تھے وہ اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ کپڑے کی عمر ۱۹۲۱ء تا ۰۹۳۱ ء کے درمیانی عرصہ کی ہے۔اس لئے ہو سکتا ہے کہ یہ زمانہ وسطی کا کوئی فریب ہو۔چنانچہ اس وقت کے ٹورین کے کارڈینل Anatasio Alberto کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا گیا تھا کہ کپڑا ایک عملی مذاق (HOAX) لگتا؟۔لیکن مسٹر روجرز رساله Thermochinica Acta میں لکھتے ہیں کہ اصل کپڑے پر کیمیائی مادہ Vanillin کی موجودگی کے کوئی آثار نہ تھے جو حرارت کے زیر اثر Lignin کے ٹوٹنے پھوٹنے سے بنتی ہے جو روئی وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔اس مادہ Lignin کی مقدار وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ گرتی جاتی ہے۔اگر کفن زمانہ وسطی میں بنایا گیا ہوتا تو اس پر ابھی بھی Vanillin موجود ہوتا۔مسٹر روجرز جو خود ابتدائی تحقیقاتی ٹیم Shroud of Turin Research) (Project کے ایک ممبر تھے انہوں نے ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کے نتائج پر اپنی حیرانگی کا اظہار اس کے دس سال بعد کیا ہے۔انہوں نے مبینہ حقائق (Data) پر از سر نو غور کیا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ عمر نکالنے کے لئے ۸۸۹۱ء میں مہیا کئے گئے نمونے اور ان دوسرے۳۲ نمونوں میں جو انہوں نے ساری