مکتوب آسٹریلیا — Page 384
384 اَطوَاراً» (نوح: ۱۵) اور انسان پر وہ حالت بھی گزری ہے کہ قابل ذکر چیز نہ تھا۔(الدھر:۲) یہ درست نہیں ہے کہ ایک ہی نوع (Species) سے انسان، حیوان ، چرند پرند اور کیڑے مکوڑے پیدا ہوئے بلکہ انسانی نوع شروع ہی سے باقی انواع سے مختلف تھی اور اس کا ارتقاء خوداس کی اپنی نوع کے اندر ہی ہوا ہے۔تمام انسانوں کا تعلق اسی نفس واحدہ سے ہے اور سب انسان ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں (النساء:۲) انسان اپنی پیدائش سے قبل رحم مادر میں جن اطوار سے گزرتا ہے وہ ان حالتوں کی تصویریں ہیں جن میں سے نوع انسانی کروڑوں سال پہلے اپنے ارتقائی مراحل میں سے گزری ہے۔چونکہ ہر نسل اور شاخ نے آزادانہ طور پر ترقی کی ہے اس لئے ہر شاخ کا پہلا شخص جو خدا کی وحی کا مہبط بنا وہ اس سلسلہ کا آدم تھا۔اس طرح کوئی ایک لاکھ آدم گزرے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ آسٹر یلیا اور افریقہ کے اصلی باشندوں کا آدم دوسروں کے آدم سے مختلف ہو۔جیسے جیسے زندگی مسلسل ترقی کر رہی تھی۔اس کے اندر بھی مختلف دور ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔جسمانی لحاظ سے بھی اور روحانی لحاظ سے بھی۔ایک دور ہزار سال کا اس سے بڑا سات ہزار سال کا اور اس سے بڑا دائرہ پچاس ہزار سال کا۔(الحج: ۴۷، المعارج : ۵) یہ ایسے ہی ہے جیسے جب انسان کی عمر بڑھتی ہے سو اس پر روزانہ ایک دور چوبیس گھنٹے کا آتا ہے۔ایک سات دن کا اور ایک سال بھر کا آخری آدم وہ تھے جن کی نسل سے ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدا ہوئے۔آدم علیہ السلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تک ۴۷۳۹ قمری سال گزرے جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کشفا علم دیا گیا۔(تحفہ گولڑویہ ) احادیث صحیحہ متواترہ کے رو سے عمر دنیا یعنی حضرت آدم سے لے کر آخیر تک سات ہزار برس قرار پائی ہے۔آجکل ۱۴۱۶ ہجری قمری سال جارہا ہے۔سات ہزار سالہ دور میں سے ۶۱۴۵ قمری سال اور ہزار سالہ دور میں سے ۱۴۵ قمری سال اور ہزار سالہ دور میں سے ۱۸۵۴ قمری سال گزر چکے ہیں۔یہ دور ۱۸۵۴ عیسوی میں شروع ہوا جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بابرکت وجود دنیا میں ظاہر ہو چکا تھا۔اور قرآن سے نور حاصل کر رہا تھا تا دنیا کو اس نور سے منور کرے گویا موجودہ سات ہزار سالہ دور میں سے ۵۵۸ سال باقی ہیں۔اس کے بعد اگلا دور کس شکل میں ظاہر ہو گا خدا ہی جانتا ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: