مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 374 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 374

374 یعنی یہ ستارہ جل کر اپنے مرکز کی طرف تہہ بہ تہہ ہو کر یعنی لپٹا جا کر گر رہا ہے۔عام ستارہ اس طرح نہیں جلا کرتاوہ جل کر ٹھنڈا سفید کنکر بن کر چکر لگاتا رہتا ہے جلنے کی حالت میں اس کو Super Nova کہتے ہیں۔لیکن یہ واقعہ اس لئے مختلف تھا کہ یہ ستارہ کسی بلیک ہول میں تبدیل ہو رہا ہے یا پہلے سے موجود کسی بلیک ہول میں مدغم ہو رہا ہے۔اس لئے اس کے جلنے کی کیفیت کو سپر نو وانہیں بلکہ Hyper Nova کہتے ہیں۔بلیک ہول میں مادہ (Matter) شدید بھاری اور گھنا(Dense) ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کی کشش ثقل (Gravity) اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ اگر چہ روشنی بالکل ہلکی ہوتی ہے وہ بھی اس کی کشش سے بچ کر نہیں جاسکتی اور اس میں جذب ہو جاتی ہے اور بالکل منعکس (Reflect) نہیں ہوتی جس کی وجہ سے بلیک ہول نظر نہیں آسکتا۔آسٹریلیا کے سائنس دان کہتے ہیں کہ لگتا ہے ناسا والوں نے بھی گزشتہ دسمبر میں کوئی اسی قسم کا منظر دیکھا ہوگا بلکہ عجب نہیں کہ پہلا بگ بینگ بھی کوئی بہت بڑا بلیک ہول ہی ہو۔( سڈنی ہیرلڈ و مئی ۱۹۹۹ء ) خدا ہی جانتا ہے کہ کائنات میں کہاں کہاں کیا کچھ وقوع پذیر ہورہا ہے۔حیات وموت کا سلسلہ صرف نباتات اور حیوانات کی انواع تک ہی محدود نہیں بلکہ کائنات کے ذرہ ذرہ پر محیط ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چشمہ معرفت (روحانی خزائن جلد۲۳) میں زندگی وموت کے فلسفہ پر بہت لطیف انداز میں روشنی ڈالی ہے۔مثلاً آپ فرماتے ہیں: ”موت اسی بات کا نام ہے کہ ایک چیز اپنی لازمی صفات کو چھوڑ دیتی ہے۔تب کہا جاتا ہے کہ وہ چیز مرگئی۔“ (صفحہ ۱۶۶) اکثر لوگ موت کے لفظ پر بہت دھو کہ کھاتے ہیں۔موت صرف معدوم ہونے کا نام نہیں بلکہ اپنی صفات سے معطل ہونے کا نام بھی موت ہے۔“ (صفحہ ۱۶۱) ایسا ہی بعض نباتاتی اور معدنی چیزیں علیحدہ علیحدہ ہونے کی حالت میں تو ایک خاصیت نہیں رکھتیں مگر ترکیب کے بعد ان میں ایک نئی خاصیت پیدا ہو جاتی ہے۔مثلاً شورہ یا گندھک یا صرف کوئلہ سے بارود بنایا جائے تو یہ غیر ممکن