مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 362 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 362

362 پہنچنے کے لئے پانچ گھنٹے اور ۴ ۵ منٹ لیتی ہے۔کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔سٹیفن ہاکنگ کا اندازہ ہے کہ ہر ہزار ملین سالوں میں کائنات پانچ تا دس فیصد تک پھیل جاتی ہے۔کائنات میں کہیں نہ کہیں نئے بھی پیدا ہور ہے ہیں ( گویا ستاروں میں بھی حیات و ممات کا سلسلہ جاری ہے۔گویا ہر چیز فانی ہے ہمیشہ رہنے والا صرف خالق مطلق ہی ہے ) کائنات میں اس قد ر مادہ بکھرا پڑا ہے کہ تمام کروں کے مجموعی مادہ (Matter) سے نو گنا زیادہ ہے اس کو سیاہ مادہ (Dark Matter) کہا جاتا ہے۔چونکہ یہ نظر نہیں آسکتا اس لئے اس کو سیاہ مادہ کہتے ہیں۔کسی چیز کے نظر آنے کے لئے ضروری ہے کہ روشنی اس سے ٹکرا کر دیکھنے والے تک واپس پہنچے۔لیکن یہ سیاہ مادہ اتنا زیادہ کثیف (Dense) ہے اور اس کی وجہ سے اس کی کشش ثقل (Gravity) اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ جو چیز اس کے قریب آئے اسے کھینچ کر اپنے اندر ہڑپ کر لیتی ہے۔روشنی جیسی ہلکی چیز بھی اس کو چھوکر واپس نہیں آسکتی اسی میں جذب ہو جاتی ہے اس لئے اسے کبھی دیکھا نہیں جاسکتا۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم میں زمین و آسمان کے درمیان پائے جانے والے اس مادہ کا بھی ذکر ہے جیسے فرمایا اللهِ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (المائدہ: ۱۸) اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے اور اسکی بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے۔وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے اور اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔( دونوں کے درمیان ۹۰ فیصد سیاہ مادہ ہے ) ستاروں کی تعداد کے بارہ میں تحقیق کا نچوڑ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر سائمن ڈرائیور (Dr Simon Driver آف آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کہتے ہیں کہ دنیا میں پہلی بار ہم نے ہی آسمان کے تاروں کو گنے کی کوشش کی ہے۔( شاید ان کو علم نہیں کہ اگلے وقتوں میں عاشق بھی ہجر کی طویل راتوں میں تارے ہی گنا کرتے تھے ) جو تارے ہم کمپیوٹروں کی مدد سے گن سکے ہیں ان کی تعداد ستر ہزار ملین ملین ملین (سات عدد کے دائیں طرف بائیس صفر ) نکلتی ہے۔لیکن یادر ہے کہ یہ تعداد کائنات کے صرف نظر آنے والے حصہ کے ستاروں کی ہے۔وہ حصہ جو نظروں سے اوجھل ہے اس کے بارہ میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے نہ ہی ابھی تک کوئی ایسی دور بین بنی ہے جو ساری کائنات کا احاطہ کر سکے۔وہ کہتے ہیں کہ دنیا بھر کے بحرو بر میں پائی جانے والی ریت کے کل جتنے ذرے ہیں یہ