مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 351 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 351

351 اسلام نے مردوں اور عورتوں کے رول متعین کر دیئے ہیں۔مرد کو عورت کے لئے قوام بنایا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ اس کے لئے روزی مہیا کرنے والا ، اس کے سارے معاملات کا نگران اور متکفل اور محافظ۔اسلام نے مرد کو خاندان کا سر براہ بنایا ہے بوجہ اس کی بہتر جسمانی و دماغی صلاحیتوں کے اور خاندان کے نان و نفقہ اور دیگر ضروریات کی ذمہ داری کی وجہ سے۔اس طرح ایک رنگ میں مرد کو عورت کا خادم اور نوکر بنایا گیا ہے۔لیکن بعض صورتوں میں عورتوں کو بھی گھر سے باہر کام کرنا پڑتا ہے اس لئے عورت کو بھی کمانے کی اجازت ہے۔چنانچہ فرمایا: وو مردوں کے لئے اس میں سے حصہ ہے جو وہ کمائیں اور عورتوں کے لئے اس میں حصہ ہے جو وہ کمائیں۔“ (النساء:۳۳) چونکہ روٹی کمانے کی ذمہ داری مرد پر ڈالی گئی ہے نہ کہ عورت پر اس لئے عورت کو کمانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔نہ ہی مرد کو بوجہ قوام ہونے کے عورت سے ایسی توقعات وابستہ کرنی چاہئیں۔البتہ اگر عورت اپنی خوشی سے اپنی کمائی میں سے اپنے خاوند کی مدد کرنا چاہے تو وہ ایسا کر سکتی ہے اور خاوند کو بیوی سے بطور عطیہ لینے کی اجازت ہے اور چونکہ بیوی کے لئے گھر پر خرچ کرنا فرض نہیں اس لئے خاوند کو اس کے لئے بیوی کا ممنون ہونا چاہئے خواہ وہ رقم خود اس پر یا اس کے بچوں پر ہی خرچ ہوتی ہو۔عورت کو اپنے مال میں سے جس پر اس کا قبضہ ہو ( جیسے وصول شدہ حق مہر ) اپنے خاوند کو دے سکتی ہے۔جیسے خدا نے فرمایا: اور عورتوں کو ان کے مہر دلی خوشی سے ادا کرو۔پھر اگر وہ اپنی دلی خوشی سے اس میں سے کچھ تمہیں دینے میں راضی ہوں تو اسے بلاتر ددشوق سے کھاؤ“ (النساء: ۵) عورت کا دلی خوشی سے دینا ضروری ہے۔جبرا اس کا مال نہیں لیا جاسکتا۔اگر چہ خاوند کے مال میں بیوی کا حق ہے لیکن خاوند بیوی کے مال سے سبھی لے سکتا ہے جب وہ دلی خوشی سے د سے دے۔