مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 350 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 350

350 کیا ہے دوسرے کا رول ادا کرنا شروع کرتے ہیں تو گھریلو زندگی میں عدم استحکام آنا شروع ہو جاتا ہے۔پھر چونکہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی تو باہم جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں جو گھروں کا سکون برباد کر دیتے ہیں اور اکثر طلاقوں تک نوبت پہنچتی ہے۔بچوں کو بوجھ سمجھ کر ان سے بچتے ہیں اور اگر ہوں تو ان کی نفسیات اور تربیت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔بعض صورتوں میں تو ایسے لوگ بے اولا دہی گزر جاتے ہیں۔مغربی معاشرہ جو مساوات مردوزن کا علمبر دار ہے اب اس میں اس مسئلہ نے شدت سے اپنا سر اٹھایا ہے۔حکومت آسٹریلیا نے اس مسئلہ کے تجزیہ کے لئے ایک تحقیق کروائی ہے جس کے نتائج چند روز قبل شائع ہوئے ہیں۔اس کے مطابق بچوں کی پیدائش میں خطرناک حد تک کمی واقع ہوگئی ہے کئی خاندانوں کی نسل ختم ہوگئی ہے۔آج کل ۶۶ فیصد مرداور ۴۰ فیصد عورتیں ایسی ہیں جن کی کوئی اولاد نہیں ہے۔پورا وقت ملازمت کرنے والی عورتوں کے ماں بننے کا امکان بہت کم ہے بہ نسبت ان عورتوں کے جو کام نہیں کرتیں یا جز وقتی ملازمت کرتی ہیں۔۲۰ تا ۳۹ سال کی عمر کے افراد (مرد دعورت ) نے کہا ہے کہ مثالی خاندان دو یا تین بچوں پر مشتمل ہونا چاہیے لیکن عملاً تعداد اس سے کم ہوتی ہے۔ایسے گھر دن بدن زیادہ ہوتے جارہے ہیں جن میں صرف ایک فرد ( مرد یا عورت ) رہتا ہے۔اس رفتار سے ۵۲۰۲ء میں آسٹریلیا کا ہر تیسرا گھر ایسا ہوگا جس میں صرف ایک شخص اکیلا رہتا ہوگا۔آگے پیچھے کوئی رشتہ دار اس کی دیکھ بھال کرنے والا نہ ہوگا اور اس کی وفات کے ساتھ اس کے خاندان کا چراغ گل ہو جائے گا۔جب لوگوں سے اس صورتحال کی وجہ دریافت کی گئی تو جو انہوں نے بتایا وہ خالصہ یہ تھا کہ :۔بچوں کی پرورش کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ایک مضبوط و مستحکم گھر ہو یعنی ایک Secure and Stable Home ہو۔میاں بیوی ( قانونی یا ڈی فیکٹو ) کے باہمی تعلقات مستحکم ہوں۔پھر دونوں کی آمدن بھی معقول اور مستحکم ہو۔(ماخوذ از سڈنی مارننگ ہیرلڈ ۲۸ جنوری ۲۰۰۵ء) یہ تو وہی بات ہوئی نہ نومن تیل ہوگا نہ رادھانا چے گی۔